اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 25
روحانی خزائن جلد ۴ ۲۵ مباحثہ لدھیانہ (اگر آپ کا اعتقادفرقہ نیچر یہ ضالہ کے موافق نہیں ہے) کہ صحت احادیث کا معیار توافق قرآن کو ﴿۲۳﴾ ٹھہرانے میں سلف صالحین سے آپ کا کون امام ہے۔ (۳) اجماع کی تعریف میں جو آپ نے کہا ہے یہ کس کتاب اصول وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ تین چار صحابہ کے اجماع کو علمائے اسلام سے کون شخص قرار دیتا ہے۔ (۴) شرح السنة سے جو حدیث آپ نے نقل کی ہے اس میں آنحضرت صلعم کا کوئی قول منقول نہیں ہے بلکہ اس میں ایک صحابی اپنا خیال ظاہر کرتا ہے جو اس کے فہم میں آیا ہے اس قول صحابی کو آنحضرت کا قول قرار دینا آنحضرت پر افتر انہیں تو کیا ہے۔ (۵) اشاعۃ السنۃ میں جو میں نے محی الدین ابن عربی کا قول نقل کیا ہے کیا اس کی نسبت میں نے آخر ریویو میں بصفحہ ۳۴۵ یہ ظاہر نہیں کیا کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں ہے اس صفحہ میں کیا یہ عبارت درج نہیں ہے؟ یہی جتانا اس امرسوم کے بیان سے ہمارا مقصود تھا اس سے اس امر کا اظہار مقصود نہیں ہے کہ ہم خود بھی اس الہام کو حجت و دلیل جانتے ہیں اور غیر ملہم کو کسی ملہم ( غیر نبی ) کے الہام پر عمل کرنا واجب سمجھتے ہیں۔ نہیں نہیں ہر گز نہیں۔ ہم صرف کتاب اللہ وسنت کے پیرو ہیں اور اسی کو حجت و دستور العمل اور عام راہ جانتے ہیں نہ خود الہامی ہیں نہ کسی اور کشفی الہامی غیر نبی کے متقدمین سے ہو خواہ متاخرین سے ) منبع و مقلد ہیں۔ پھر مجھے کو اس قول ابن عربی کا امکانی قائل بنانا مجھ پر افتر انہیں تو کیا ہے؟ آیات قرآن جو آپ نے نقل کی ہیں ان کو امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں ہے میں اس امر کو اپنے تفصیلی جواب میں بیان کروں گا جب سوالات مذکورہ کا جواب پاؤں گا۔ ابوسعيد فقط مرزا صاحب! میری طرف سے مکرر گزارش یہ ہے کہ ائمہ حدیث جس طور سے صحیح اور غیر صحیح حدیثوں میں فرق کرتے ہیں اور جو قاعدہ تنقید احادیث انہوں نے بنایا ہوا ہے وہ تو ہر ایک پر ظاہر ہے کہ وہ راویوں کے حالات پر نظر ڈال کر باعتبار اُن کے صدق یا کذب اور سلامت فہم یا عدم سلامت اور باعتبار اُن کے قوت حافظہ یا عدم حافظہ وغیرہ امور کے جن کا ذکر اس جگہ موجب تطویل سے کسی حدیث کے صحیح یا غیر صحیح ہونے کی نسبت حکم دیتے ہیں مگر ان کا کسی حدیث کی نسبت یہ کہنا کہ یہ صحیح ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ وہ حدیث من كل الوجوہ مرتبہ ثبوت کامل تک پہنچ گئی ہے جس میں امکان غلطی کا نہیں بلکہ ان کا مطلب صحیح کہنے سے صرف اس قدر ہوتا ہے کہ وہ بخیال ان کے ان آفات اور عیوب سے مبرا ہے جو غیر صحیح حدیثوں میں پائی