اَلْحق مباحثہ لدھیانہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 598

اَلْحق مباحثہ لدھیانہ — Page 83

۸۳ مباحثہ لدھیانہ روحانی خزائن جلد ۴ کاش آپ نے دیانت وامانت کو مد نظر رکھ کر وہی طریق مقصود اختیار کیا ہوتا ! کیا آپ کو معلوم نہیں تھا ۸۱ ) کہ جو احادیث تعامل کے سلسلہ میں داخل ہوں ان کو میں بحث متنازع فیہ سے باہر کر چکا ہوں؟ اور اگر معلوم تھا تو پھر کیوں آپ نے گدھے کے حرام ہونے کی حدیث پیش کی؟ کیا کسی چیز کا حرام یا حلال کرنا احکام میں سے نہیں ؟ اور کیا احکام اکل و شرب کے تعامل الناس سے باہر ہیں؟ اور پھر آپ نے لعنت على الواشمات والمستوشمات کی بھی حدیث پیش کر دی اور آپکو کچھ خیال نہ آیا کہ یہ تو سب احکام ہیں جن کیلئے تعامل کے سلسلہ کے نیچے داخل ہونا ضروری ہے! آپ سچ کہیں کہ ان تمام غیر متعلق باتوں سے آپ نے اپنا اور سامعین کا وقت ضائع کیا یا کچھ اور کیا؟ لوگ منتظر تھے کہ اصل بحث کے سننے سے جس کا ایک دنیا میں شور پڑ گیا ہے فائدہ اٹھا دیں اور حق اور ناحق کا فیصلہ ہو لیکن آپ نے علمی اور فضول اور بے تعلق باتیں شروع کر دیں شاید ان باتوں سے وہ لوگ بہت خوش ہوئے ہونگے جن میں اصل مقصود کی شناخت کرنے کا مادہ نہیں لیکن میں سنتا ہوں کہ حقیقت شناس لوگ آپ کی اس تقریر سے سخت ناراض ہوئے اور آپ کی مناظرانہ لیاقت کا مادہ انہوں نے معلوم کر لیا کہ کہاں تک ہے بہر حال چونکہ آپ اپنے اس دھوکہ دینے والے مضمون کو ایک جلسہ عام میں سنا چکے ہیں اسلئے میں مواضع مناسبہ سے آپ کے اقوال قولہ۔ اقول کے طرز پر ذیل میں بیان کرتا ہوں تا منصفین پر کھل جائے کہ کہاں تک آپ نے دیانت و راستی و تہذیب اور طریق مناظرہ کا التزام کیا ہے۔ وبالله التوفيق۔ قولہ ۔ آپ نے میرے سوال کا جواب صاف اور قطعی نہیں دیا کہ احادیث جملہ مسیح ہیں یا جملہ موضوع یا مختلط ۔ اقول ۔ حضرت میں آپ کو کئی دفعہ جواب دے چکا ہوں کہ حصہ دوم احادیث کا جو تعامل کے سلسلہ سے یا یوں کہو کہ سنن متوارثہ متعاملہ سے باہر ہے صرف ظن کے درجہ پر ہے اور یہی میرا مذ ہب ہے اور چونکہ اس حصہ سے جو اخبار گزشتہ یا مستقبلہ کی قسم میں سے ہے شیخ بھی متعلق نہیں اس لئے در حالت مخالفت نصوص بینه قرآن قابل تسلیم نہیں۔ اگر کوئی ایسی حدیث نص قطعی بین قرآن سے مخالف ہوگی تو قابل تاویل ہوگی یا موضوع قرار پائے گی۔ قوله صیح بخاری و مسلم میں ایسی کوئی حدیث ہے جو بوجہ تعارض موضوع ٹھہر سکتی ہے؟ اقول ۔ بے شک حصہ دوم کے متعلق کئی ایسی حدیثیں ہیں جن میں سخت تعارض پایا جاتا ہے جیسا کہ وہی حدیثیں جونزول ابن مریم کے متعلق ہیں کیونکہ قرآن قطعی طور پر فیصلہ دیتا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور صحیحین کی بعض حدیثیں بھی اس فیصلہ پر شاہد ناطق ہیں اور ایک گروہ صحابہ اور علماء امت کا بھی قر نأبعد قرن اسی بات کا مقر ہے اور نصاریٰ کا یونی ٹیرین فرقہ بھی اسی بات کا قائل ہے اور یہودیوں کا بھی یہی