اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 346 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 346

۳۴۶ روحانی خزائن جلد۴ آسمانی فیصلہ اور جن کے حق میں فرمایا ہے۔ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ ے ان میں آثار سجود اور عبودیت کے ضرور پائے جانے چاہئیں کیونکہ خدائے تعالیٰ کے وعدوں میں خطا اور تخلف نہیں سو ان تمام علامات کا مومن میں پائے جانا جن کا قرآن کریم میں مومنوں کی تعریف میں ذکر فرمایا گیا ہے ضروریات ایمان میں سے ہے اور مومنوں اور ایسے شخص میں فیصلہ کرنے کیلئے جس کا نام اس کی قوم کے علماء نے کافر رکھا اور مفتری اور دجال اور ملحد قرار دیا یہی علامات کامل محک اور معیار ہیں پس اگر کوئی شخص اپنے بھائی مسلمان کا نام کا فر رکھے اور اس سے مطمئن نہ ہو کہ وہ شخص اپنے ایماندار ہونے کا اقرار کرتا ہے اور کلمہ طیبہ لا اله الا الله محمد رسول اللہ کا قائل ہے اور اسلام کے تمام عقیدوں کا ماننے والا ہے اور خدائے تعالیٰ کے تمام فرائض اور حدود اور احکام کو فرائض اور حدود اور احکام سمجھتا ہے اور حتی الوسع ان پر عمل کرتا ہے۔ تو پھر بالآ خر طریق فیصلہ یہ ہے کہ فریقین کو ان علامات میں آزمایا جاوے جو خدا وند تعالیٰ نے مومن اور کافر میں فرق ظاہر کرنے کیلئے قرآن کریم میں ظاہر فرمائی ہیں تا جو شخص حقیقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک مومن ہے اس کو خدائے تعالیٰ اپنے وعدے کے موافق تہمت کفر سے بری کرے اور اس میں اور اس کے غیر میں فرق کر کے دکھا دیوے اور روز کا قصہ کوتاہ ہو جاوے۔ یہ بات ہر ایک عاقل سمجھ سکتا ہے کہ اگر یہ عاجز جیسا کہ میاں نذیر حسین اور اس کے شاگر د بٹالوی کا خیال ہے در حقیقت کا فر اور دجال اور مفتری اور مور دلعن اور دائرہ اسلام سے خارج ہے تو خدائے تعالی عند المقابلہ کوئی نشان ایمانداران کا اس عاجز کی تصدیق کیلئے ظاہر نہیں کرے گا کیونکہ خدائے تعالیٰ کا فروں اور اپنے دین کے مخالفوں کے بارے میں جو بے ایمان اور مردود ہیں ایمانی علامات کے دکھلانے سے ہرگز اپنی تائید ظاہر نہیں کرتا اور کیونکر کرے جب کہ وہ ان کو جانتا ہے کہ وہ دشمن دین اور نعمت ایمان سے بے بہرہ ہیں سو جیسا کہ میاں نذیر حسین صاحب اور بٹالوی نے میری نسبت کفر اور بے دینی کا فتویٰ لکھا اگر میں در حقیقت ایسا ہی کافر اور دجال اور دشمن دین ہوں تو خدائے تعالیٰ اس مقابلہ میں ہرگز میری تائید نہیں کرے گا بلکہ اپنی تائیدوں سے مجھے بے بہرہ رکھ کر ایسا رسوا کرے گا کہ جیسا اتنے بڑے کذاب کی سزا ہونی چاہئے اور اس صورت میں اہل اسلام میرے شر سے بچ جائیں گے اور تمام مسلمان میرے فتنہ سے امن میں آجائیں گے لیکن اگر کرشمہ قدرت الفتح : ٣٠