اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 330 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 330

روحانی خزائن جلد ۴ ۳۳۰ الحق مباحثہ دہلی حق ایک جانب ہے۔ علم صرف سے لے کر منطق ۔ معانی۔ بیان۔ اصول فقہ۔ اصول حدیث وغیرہ میں کوئی ایسا علم نہیں جس کے بعض مسائل میں اختلاف نہ ہو جو کتاب ان علوم کی کھول کر دیکھو گے اُس میں پاؤ گے ۔ انفش یوں کہتا ہے۔ سیبویہ دوں کہتا ہے ابن سینا کا یہ مذہب ہے فارابی کا قول اُس کے خلاف ہے امام رازی نے یوں کہا ہے ۔ ابن الصلاح یوں فرماتے ہیں لیکن ابن تیمیہ نے اس کا خلاف کیا ہے۔ توضیح تلویح میں فلاں اصل کو متاصل کہا ہے۔ ارشاد الحول میں اس اصل کو رد کر دیا ہے۔ کہاں تک میں اس اختلاف کی شرح کروں پھر اگر حضرت مجد کا کوئی کلام اصول فقہ یا اصول حدیث کے ظاہر میں کسی کو خلاف معلوم ہوتا ہو تو با وجود اختلاف موجودہ ان علوم کے یہ کیونکر ثابت ہو کہ حضرت مجدد غلطی پر ہیں وہ تو اپنے ہر ایک مدعا پر کتاب اللہ کو جو جملہ دلائل شرعیہ سے مقدم ہے اور جملہ فرق اسلام کو مسلم ہے پیش کرتے ہیں ۔ اب اگر کسی کو طاقت علمی ہے تو ان کے اس مدعا کو قرآن مجید سے ہی توڑے۔ خیر حدیث سے ہی توڑے۔ خیر عقل سے ہی توڑے۔ علمائے ہندوستان جو مدعو ہوئے ہیں دیکھیں ان میں کون کون اس میدان میں آتا ہے اور جبکہ کتاب اللہ کی نسبت لَا رَطْبٍ وَلَا يَابِسٍ إِلَّا فِي كِتَبٍ مُّبِين _ وارد ہے تو کیا اس آپی کو قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا کلام نہ کہا جاوے اور اُس پر ایمان نہ لایا جاوے آگے رہا یہ امر کہ ایسا کھلا کھلا نشان بین حضرت مجدد کی مجددیت و ملہمیت و محد ثیت پر ہم سب پر ظاہر ہو جاوے کہ کسی طرح کا حجاب کسی کو بھی نہ رہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے جو اُس نے ایمان بالغیب میں رکھی مخالف ہے دیکھو حضرت موسی سے نبی جلیل القدر صاحب الکتاب کو بڑے بڑے معجزات دیئے گئے لیکن مخالفین کی نظروں میں ایک حجاب بھی قائم کر دیا گیا۔ ایک قبطی کو اُن کے ہاتھ سے قتل کروا دیا تا کہ مخالفین کی نظروں میں یہ فعل قتل اُن الانعام : ۶۰