اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 241
روحانی خزائن جلدم ۲۴۱ الحق مباحثہ دہلی لانا لانسلم ان الناقض والمعارض متصديان لاثبات الحكم من حيث انه اثبات بل من حيث انه نفى لاثبات حكم تصدى باثباته الخصم من حيث انه معارضة اونقض لدليله نا تمامی تقریب از روئے علم مناظرہ اور علم مناظرہ کے رو سے تقریب مولوی صاحب کی دلیل کی محض ناتمام ہے بیان اس کا چہار سطری یہ ہے۔ مدعا مولوی صاحب کا مصلح ہو کر یہ رہا ہے کہ بعد نزول عیسی بن مریم اور قبل موت ان کی کے ایسا زمانہ آوے گا کہ سب اہل کتاب مومن ہو جاویں گے یعنی اسلام میں داخل ہو جاویں گے۔ اور دلیل مولوی صاحب کی مستلزم اس مدعا کو نہیں ہے۔ کیونکہ مولوی صاحب کا اقرار پر چہ ثانی میں مندرج ہے کہ مراد ایمان سے یقین ہو سکتا ہے نہ ایمان شرعی ۔ پس دلیل سے سب اہل کتاب کا ایمان شرعی کے ساتھ مومن ہونا اور اسلام میں داخل ہونا ثابت نہ ہوا اور تقریب محض نا تمام رہی ايها الناظرين ذره انصاف کرو کہ اس مشکل مسئلہ مناظرہ کو حضرت اقدس نے کس آسانی اور سہولت اور حسن اسلوب سے بیان کیا ہے کہ ہر ایک قاصی و دانی اس کو سمجھ سکتا ہے لیکن افسوس کہ حضرت مولوی صاحب نے اس پر ذرہ بھر خیال نہ فرمایا ۔ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ فقہ حدیث اس مباحثہ میں فقہ حدیث مولوی صاحب کا یہ ہے کہ مــا اتــاكــم الــرسول کا مصداق حضرت ابو ہریرہ کا قول اور فہم مشکوک مندرجہ فاقرء وا ان شئتم وَإِنْ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَبِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتم لے کو ٹھہرا دیا ہے اور طرفہ اس پر یہ ہے کہ یہ بھی اقرار ہے کہ فہم صحابی کو میں حجت نہیں جانتا۔ مولانا صاحب جب کہ قول و فہم صحابی حجت نہیں ہے تو اقوال تابعین وغیرہ جو جناب نے اپنے معنے کی تائید میں نقل فرمائے ہیں وہ کیونکر حجت قطعی ہو گئے ۔ تِلْكَ إِذَا قِسْمَةً ضیوی نے اگر فقہ حدیث کی طرف مولوی صاحب توجہ فرماتے تو فیصلہ اس مباحثہ کا بہت آسان تھا۔ بیان اس کا بطور نمونہ کے مجملاً یہ ہے کہ صاحب صحیح مسلم نے روایت و در ایتا اس امر کا فیصلہ کر دیا ہے۔ وامامکم منکم جو صحیحین کی حدیث میں ایک جملہ واقع ہے اس سے کوئی دوسرا امام سوا ابن مریم کے مراد نہیں ہے۔ بلکہ یہ جملہ یا تو بطور صفت کے اسی ابن مریم کا وصف واقع ہوا ہے ل النساء : ١٦٠ ٢ النجم : ٢٣