اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 217

روحانی خزائن جلدم ۲۱۷ الحق مباحثہ دہلی نہیں کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے ہیں اور مدینہ منورہ میں آپ کا مزار موجود ہے ۔ پھر ۸۷ جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی لفظ فـلـمـا تـو فیتنی کا حدیث بخاری میں اپنے لئے اختیار کیا ہے اور اپنے حق میں ویسا ہی استعمال کیا ہے جیسا کہ وہ حضرت عیسی کے حق میں مستعمل تھا تو کیا اس بات کو سمجھنے میں کچھ کسر رہ گئی کہ جیسا کہ آنحضرت صلعم وفات پاگئے ویسا ہی حضرت مسیح ابن مریم بھی وفات پاگئے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی آیات اور مفہوم آیات میں کسی طور سے تحریف جائز نہیں۔ اور جو کچھ اصل منشاء اور اصل مفہوم اور اصل مراد ہر ایک لفظ کی ہے اس سے عمداً اس کو اور معنوں کی طرف پھیر دینا ایک الحاد ہے جس کے ارتکاب کا کوئی نبی یا غیر نبی مجاز نہیں ہے اسلئے کیونکر ہوسکتا ہے کہ نبی معصوم بجز حالت تطابق کلی کے جو فی الواقع مسیح کی وفات سے اس کی وفات کو تھی لفظ فلما تو فیتنی کو اپنے حق میں استعمال کر سکتا اور نعوذ باللہ تحریف کا مرتکب ہوتا بلکہ ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم امام المعصومین وسید المحفوظین نے (روحی فداء سبيله ) لفظ فلما توقيتني کا نہایت دیانت وامانت کے ساتھ انہیں مقررہ معینہ معنوں کے ساتھ اپنے حق میں استعمال کیا ہے کہ جیسا کہ وہ بعینہ حضرت عیسی کے حق میں وارد ہے ۔ اب بھائیو اگر حضرت سید و مولانا بجسده العنصری آسمان کی طرف اٹھائے گئے ہیں اور فوت نہیں ہوئے اور مدینہ میں ان کا مزار مطہر نہیں تو گواہ رہو کہ میں ایمان لاتا ہوں کہ ایسا ہی حضرت عیسی بھی آسمان کی طرف بجسده العنصری اٹھائے گئے ہوں گے اور اگر ہمارے سید و مولی وسید الکل ختم المرسلین افضل الأولين و الأخرين اول المحبوبين والمقربین در حقیقت فوت ہو چکے ہیں تو آؤ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور فلما توفیتنی کے پیارے لفظوں پر غور کرو جو ہمارے سید و مولی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے میں اور اس عبد صالح میں مشترک بیان کئے ۔ جس کا نام مسیح ابن مریم ہے بخاری اس مقام میں سورۃ آل عمران کی یہ آیت اِنِّی مُتَوَفِّيكَ کیوں لایا اور کیوں ابن عباس سے روایت کی کہ مُتَوَفِّيكَ مُمِیتُک اس کی وجہ بخاری کے صفحہ ۶۶۵ میں شارح بخاری نے سیکھی ہے ۔ هذه الآية مُتَوَفِّيكَ من سورة ال عمران ذكر ههنا لمناسبة فلما توفيتنى يعنى يہ آيت انی متوفیک سورت آل عمران میں ہے اور بخاری نے جو اس جگہ اس آیت کے ابن عباس سے یہ معنے کئے کہ متوفیک ممیتک تو اس کا یہ سبب ہے کہ بخاری نے فــلــمــا تـو فیتنی