اَلْحق مباحثہ دہلی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 159 of 598

اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 159

۱۵۹ روحانی خزائن جلدم الحق مباحثہ دہلی میں پورا لینا کہتے ہیں اور توفی کا استعمال اخذ تام و قبض لغت سے ثابت ہے قاموس میں ہے و اوفی عليه اشرف وفلانا حقه اعطاه وافيا توفاه واوفاه فاستوفاه و تو فاہ اور صحاح میں ہے اوفاه حقه ووفاه بمعنی ای اعطاه حقه وافيا و استوفی حقه و توفاه بمعنی ۔ مصباح المنیر میں ہے وتوفيته واستوفيته بمعنى - مجمع البجار میں ہے واستوفیت حقی ای اخذته تاما ۔ صراح میں ہے۔ ایفاء گزاردن حق کے بتمام ويقال منه اوفاه حقه ووفاه استيفاء - تو فی تمام گرفتن حق ۔ اور قسطلانی میں ہے التوفـى اخذ الشيء وافيا و الموت نوع منه انتھی۔اور دوسرے معنے مجازی انسامت ہیں جن کو اردو میں سلانا کہتے ہیں اور تو فی بمعنی انامت قرآن مجید سے ثابت ہے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورہ زمر میں اللهُ يَتَوَى الْأَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِي لَمْ تَمُتْ فِي مَنَامِهَا فَيُمْسِكُ الَّتِي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الأخرى اور فرمایا سورہ انعام میں ھو الَّذِي يَتَوَفُكُمْ بِالَّيْلِ وَيَعْلَمُ مَا جَرَحْتُمْ بِالنَّهَارِ ثُمَّ يَبْعَثُكُمْ فِيْهِ لِيُقْضَى أَجَلُّ مستی نے اور قسم دوم کا جواب بعد تسلیم عمومات کے یہ ہے کہ آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَبِ جو قطعي الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے ان آیات کی تخصص واقع ہوئی ہے اور قسم سوم کا جواب یہ ہے کہ اگر بالفرض تسلیم کیا جاوے کہ الفاظ فی نفسہا ان معانی کے بھی متحمل ہیں جو جناب مرزا صاحب نے بیان کئے ہیں لیکن آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الكتب جو قطعی الثبوت و قطعی الدلالۃ ہے ان احتمالات کو رد کرتی ہے لہذا وہ معانی باطل ہوئے صحیح معانی ان آیات کے وہ ہیں جو تفاسیر معتبر ہ میں مذکور ہیں اور وہ موافق ہیں آیت وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتب کے اور جواب تفصیلی ان آیات کا جن کو مرزا صاحب نے واسطے ثبوت وفات پیش کیا ہے ازالۃ الا وہام کے جواب میں انشاء اللہ به بسط بسیط الکھا جاوے گا۔ واخر دعوانا ان الحمدلله رب العلمين والصلوة والسلام على خير خلقه محمد و آله وصحبه وسلم۔ ۱۹ ربیع الاول ۱۳۰۹ ہجری روز جمعه محمد بشیر عفی عنہ الزمر :٤٣ الانعام: ۶۱