اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 131
روحانی خزائن جلدم ۱۳۱ الحق مباحثہ دہلی بسم اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَالصَّلَوةُ وَالسَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّي الصادق المصدوق المطاع الامين ۔ دہلی کے مباحثہ کے شیوع میں امید سے زیادہ تو قف ہوا اس عرصہ میں بیقرار اور منتظر شائقین کو فرط تحیر سے طبعا طرح طرح کے ظنون و اوہام کے پنجہ میں اسیر ہونا پڑا۔مگر اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس التوا و توقف میں بھی بڑی مصلحتیں ثابت ہوئیں اور اب یہ دنیا میں اپنی پوری تجلی کے ساتھ آفتاب نصف النہار کی طرح چمکا ہے۔ بیشک ایک عالم کو انتظار لگ رہا تھا کہ اس جلیل اور با ہیبت دعوے کے مقابلہ پر جو رسل یزدانی امام غلام احمد نے اور مسلم سے کھڑا ہواور مرسل یزدانی امام ربانی حضرت غلام احمد قادیانی نے کیا ہے مستند اور مسلم فضلاء سے کوئی شخص کھڑا ہو اور مسلمانوں کو دلی شوق تھا کہ قدیم بغل پروردہ عقیدہ کو نہ چھوڑیں جب تک کسی زبر دست مقابلہ کی محک پر کس کر اُس کا ناسرہ ہونا ثابت نہ ہو جائے ۔ لودیانہ کے مباحثہ سے جو اصل دعوی مسیح موعود سے بالکل اجنبی واقع ہوا تھا مسلمانوں کی پیاس کو ایک قطرہ آپ بھی ہونٹ تر کرنے کیلئے نہ ملا تھا۔ گو ایک وجہ سے اہلِ حق مبصر کو اس سے بھی حضرت مرزا صاحب کا موید من اللہ ہونا صاف طور پر ثابت ہو چکا تھا۔ مگر عام لوگ جنکی نگاہیں مبادی سے متجاوز ہو کر مقاصد کی تہ در تہ باریکیوں پر پہنچ نہیں سکتیں کھلا کھلا ثبوت اور بین حجت کا ظہور چاہتے تھے سو رحیم کریم اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو حیرت و تردد کی ظلمتوں میں ابتلا کے وقت اپنی خاص رحمت سے چراغ ہدایت ہاتھ میں دیتا ہے اپنی دائمی سنت کے موافق اب بھی تقاضا فر مایا کہ ان فطری سعیدوں کو جن پر بعض بواعث سے آنی حجاب پڑ گئے ہیں اور جنہیں حقیقی قبول حق کی کچی اور پُر جوش ترپ تو لگی ہوئی ہے مگر وہ صدیقی ایمان کے خلاف قاطع حجت اور باہر دلیل دیکھ کر ایمان لانا پسند کرتے ہیں۔ اپنی مرضیات کی راہیں دکھانے کیلئے ایک خاص امر فارق بین الحق والباطل دکھلائے۔ اس حکیم حمید اللہ تعالیٰ نے اپنی زبر دست حکمت کے پورا کرنے کیلئے حضرت مسیح موعود کے دل میں سفر دہلی کا ارادہ القا کیا۔ آپ ۲۸ ستمبر کو مع الخیر وارد دہلی ہوئے۔ کل پنجاب اور ہندوستان کی آنکھیں بڑی بے صبری سے دہلی کی کارروائیوں کو دیکھنے لگیں۔ ان کا یہ موروثی اعتقاد چلا آتا تھا کہ وہلی بڑے بڑے نامی علماء اور اجلہ اولیاء کا مسکن و ماوی ہے اس لئے وہاں کما ینبغی احقاق حق اور ابطال باطل ہو جائیگا مگر افسوس وہ نہ جانتے تھے کہ ان کے حسن اعتقاد کے محرک و مرجع جن کی پاک اور برگزیدہ تصنیفات و تالیفات انکی دلکش تصاویر کے مرقع کی بجا قائم مقامی کر کے پڑھنے والوں کے دل میں سوسوحسرتیں چھوڑتی ہیں قبروں میں سورہے ہیں اور انکے سینوں کو روندنے والے اترا اترا کر چلنے والے وہ لوگ ہیں جو فَخَلَفَ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ أَضَاعُوا الصَّلوةَ وَاتَّبَعُوا الشُّهَوتِ : :مریم ۶۰