اَلْحق مباحثہ دہلی — Page 116
روحانی خزائن جلد۴ ١١٦ مباحثہ لدھیانہ کو یاد تھیں وہ باوجود اپنی صحت اسناد کے صحیح بخاری کی حدیثوں سے کچھ تعارض رکھتی ہونگی جبھی تو بخاری جیسے حریص اشاعت سنت رسول نے ان کو کتاب میں درج نہیں کیا۔ اور نہ کسی دوسری کتاب میں ان کو لکھا اور نہ بخاری جیسے عاشق قول رسول پر ایک نا قابل دفع اعتراض ہوگا کہ اس نے رسول اللہ کی حدیثوں کو پا کر کیوں ضائع کیا! کیا اس کی شان سے بعید نہیں کہ سولہ برس مصیبت اٹھا کر ایک لاکھ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جمع کی اور پھر ایک نکے خیال سے کہ کتاب میں طول ہوتا ہے اس خزانہ کو ضائع کر دے؟ چه عقل است صد سال اندوختن پس انگاه در یک دمے سوختن خدا دا د علم اور حکمت کو ضائع کرنا بالاتفاق معصیت کبیرہ ہے پھر کیونکر یہ حرکت بے جا ایسے امام سے ممکن ہے! سواگر چہ کسی مخفی وجہ کی نسبت سے امام بخاری نے ظاہر نہیں کیا اور یا ظاہر کیا اور محفوظ نہیں رہا لیکن بہر حال یہی سبب ہے اور یہی عذر شرعی ہے جس کے تجویز کرنے سے امام محمد اسماعیل کی غم خواری دینی کا دامن کسل اور لا پروائی کی آلائش سے پاک رہ سکتا ہے۔ قولہ ۔ آپ نے اجماع کے بارے میں کہ اجماع کس کو کہتے ہیں کچھ جواب نہ دیا جس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ آپ علمی سوالات کو کچھ سمجھ نہیں سکتے۔ اجماع کی تعریف یہ ہے کہ ایک وقت کے جملہ مجتہدین جن سے ایک شخص بھی متفرد و مخالف نہ ہو ایک حکم شرعی پر اتفاق کر لیں اگر ایک مجتہد بھی مخالف ہو تو پھر اجماع متحقق نہیں ہوگا۔ اقول ۔ میرے سیدھے سیدھے بیان میں ماحصل اجماع کی تعریف کا موجود ہے۔ ہاں میں نے اصولیوں کی مصنوعہ مخترعہ طرز پر جو وقت سے خالی نہیں اس بیان کو ظاہر نہیں کیا تا عوام الناس فہم سخن سے بے نصیب نہ رہیں۔ لیکن آپ نے اصطلاحی طور پر اجماع کی تعریف کرنے کا دعوی کر کے پھر اس میں خیانت کی ہے اور پورے طور پر اسکا بیان نہ کیا جس سے آپکے دل میں یہ اندیشہ ہوگا کہ جن شرائط کو اصول فقہ والوں نے اجماع کی تحقیق کیلئے ٹھہرایا ہے ان تمام شرائط کے لحاظ سے آپکے مسلمہ اجماعوں میں سے کوئی اجماع صحیح ٹھہر نہیں سکتا۔ اور یا یہ مطلب ہوگا کہ جو امور اس میں میرے مفید مطلب ہوں ان کو پوشیدہ رکھا جاوے اور وہ اجماع معہ اس کی شرائط کے اس طرح پر بیان کیا گیا ہے الاجماع اتفاق مجتهدين صالحين من امة محمد مصطفى صلى الله عليه و سلم في عصر واحد والا ولى ان يكون في كل عصر على امرقولى او فعلى وركنه نوعان عزيمة و