البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 481 of 630

البلاغ — Page 481

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۸۱ ضرورة الامام ایسا شخص نہایت قابل تعظیم اور کبریت احمر کا حکم رکھتا ہے کیونکہ اس کے وجود سے اسلام کی زندگی ظاہر ہوتی ہے اور وہ اسلام کا فخر اور تمام بندوں پر خدا تعالیٰ کی حجت ہوتا ہے اور کسی کیلئے جائز نہیں ہوتا کہ اس سے جدائی اختیار کرے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ارادہ اور اذن سے اسلام کی عزت کا مربی اور تمام مسلمانوں کا ہمدرد اور کمالات دینیہ پر دائرہ کی طرح محیط ہوتا ہے۔ ہر ایک اسلام اور کفر کی کشتی گاہ میں وہی کام آتا ہے اور اسی کے انفاس طیبہ کفرکش ہوتے ہیں۔ وہ بطور کل کے اور باقی سب اس کے جز ہوتے ہیں ۔ او چو کل و تو چو جزئی ئے کلی تو پلاک استی اگر از وے بگسلی چوتھی قوت عزم ہے جو امام الزمان کیلئے ضروری ہے اور عزم سے مراد یہ ہے کہ کسی کے حالت میں نہ تھکنا اور نہ نومید ہونا اور نہ ارادہ میں سست ہو جانا۔ بسا اوقات نبیوں اور مرسلوں اور محدثوں کو جو امام الزمان ہوتے ہیں ایسے ابتلا پیش آ جاتے ہیں کہ وہ بظاہر ایسے مصائب میں پھنس جاتے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ نے ان کو چھوڑ دیا ہے اور ان کے ہلاک کرنے کا ارادہ فرمایا ہے اور بسا اوقات ان کی وحی اور الہام میں فترت واقع ہو جاتی ہے کہ ایک مدت تک کچھ وحی نہیں ہوتی اور بسا اوقات ان کی بعض پیشگوئیاں ابتلا کے رنگ میں ظاہر ہوتی ہیں اور عوام پر ان کا صدق نہیں کھلتا اور بسا اوقات ان کے مقصود کے حصول میں بہت کچھ توقف پڑ جاتی ہے اور بسا اوقات وہ دنیا میں متروک اور مخذول اور ملعون اور مردود کی طرح ہوتے ہیں۔ اور ہر ایک شخص جو ان کو گالی دیتا ہے تو خیال کرتا ہے کہ گویا میں بڑا ثواب کا کام کر رہا ہوں۔ اور ہر ایک ان سے نفرت کرتا اور کراہت کی نظر سے دیکھتا ہے اور نہیں چاہتا کہ سلام کا بھی جواب دے۔ لیکن ایسے وقتوں میں ان کا عزم آزمایا جاتا ہے۔ وہ ہرگز ان آزمائشوں سے بے دل نہیں ہوتے اور نہ اپنے کام میں سست ہوتے ہیں یہاں تک کہ نصرت الہی کا وقت آ جاتا ہے۔ پانچویں قوت اقبال علی اللہ ہے جو امام الزمان کیلئے ضروری ہے اور اقبال علی اللہ سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ مصیبتوں اور ابتلاؤں کے وقت اور نیز اس وقت کہ جب سخت دشمن سے مقابلہ