البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 630

البلاغ — Page 432

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۳۲ البلاغ فریا دورد پس جبکہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت رعایا کے دل نہایت صاف ہیں تو اس صورت میں اگر پادریوں کی سخت گوئی سے کسی نقض امن کا اندیشہ ہو تو شاید اسی قدر ہو کہ کسی موقعہ پر ایک گروہ دوسرے گروہ سے دنگہ فساد کرے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ تجربہ مدت دراز کا ہم پر ثابت کرتا ہے کہ آج تک یہ دنگہ فساد بھی ایک قوم کا دوسری قوم سے وقوع میں نہیں آیا۔ حالانکہ اس گذشتہ ساٹھ سال میں ہم لوگوں نے دیسی پادری صاحبوں کی وہ سخت تحریریں پڑھی ہیں اور وہ دل آزار کلے ہماری نظر سے گذرے ہیں جن سے دل ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتا ہے اور با ایں ہمہ مسلمانوں کی طرف سے کوئی طیش و اشتعال ظاہر نہیں ہوا۔ اس کا یہ سبب ہے کہ مسلمانوں کے علماء رڈ لکھنے کی طرف متوجہ ہو گئے۔ پس جس جوش کو بعض جاہلوں نے وحشیانہ طور پر ظاہر کرنا تھا وہ مہن بہانہ طور پرقلم اور کاغذ کے ذریعہ سے ظاہر کیا گیا اور با ایں ہمہ ایک گروہ کثیر مسلمانوں کا نا خواندہ ہے جو ایسی تحریرات سے کچھ بھی خبر نہیں رکھتا۔ پس یہی موجب ہے کہ یہ تمام زہریلی تحریر یں کسی فساد کی موجب نہ ہو سکیں اور یقین کیا جاتا ہے کہ آئندہ بھی موجب نہ ہوں کیونکہ مسلمان اب عرصہ ساٹھ سال سے اس عادت پر پختہ ہوگئے ہیں کہ تحریروں کا جواب تحریروں سے دیا جائے اور یہ حکمت عملی امن قائم رکھنے کے لئے نہایت عمدہ اور مؤثر ہے کہ آئندہ بھی اسی عادت پر پختہ رہیں اور دوسرے طریقوں کی طرف دل کو نہ پھیریں۔ ماسوا اس کے اس طریق میں علمی ترقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اس برٹش انڈیا میں ایک کم استعداد اور کم علم مباحث بھی جو پادریوں کے ساتھ سلسلہ بحث جاری رکھتا ہے اس قدرا اپنے مباحثہ میں معلومات پیدا کر لیتا ہے کہ اگر قسطنطنیہ میں جا کر ایک نامی فاضل کو وہ باتیں پوچھی جائیں جو اس شخص کو یاد ہوتی ہیں تو وہ ہرگز بتلا نہیں سکے گا کیونکہ اس ملک میں ایسے مباحثات نہیں کئے جاتے اس لئے وہ لوگ اس کو چہ سے واقف نہیں ہوتے اور اکثر سادہ لوح اور پیغمبر ہوتے ہیں۔ اب ہم اغراض مذکورہ بالا کے لئے ایک عربی رسالہ جس کا ترجمہ فارسی میں ہر ایک سطر کے نیچے لکھا گیا ہے۔ اس رسالے کے بعد لکھتے ہیں کیونکہ بعض دور دراز ملکوں کے لوگ اُردو پڑھ نہیں سکتے جیسا کہ بلا د عرب کے رہنے والے یا امیران و بخارا و کابل وغیرہ کے باشندے۔ اس لئے یہی قرین مصلحت معلوم ہوا کہ اس عظیم الشان کام کو مشتہر کرنے کے لئے عربی اور فارسی میں بھی کچھ تحریر کیا جائے تا یہ لوگ بھی دولت اعانت دین سے محروم نہ رہیں اور خدا تعالیٰ سے ہم توفیق چاہتے ہیں کہ اس رسالہ عربی اور فارسی کو بھی ہمارے ہاتھوں سے پورا کرے۔ آمین