البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 428 of 630

البلاغ — Page 428

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۲۸ البلاغ - فریا دورد (۵۷) بے تعلق قیاس ہے جس کو منطق کی اصطلاح میں قیاس مع الفارق کہا جاتا ہے۔ کیونکہ زنلی کی تحریر میں علمی رنگ میں کوئی اعتراض نہیں تا اُس کا دفع کرنا مقدم ہوتا بلکہ وہ تو صرف مسخرہ پن سے جنسی اور ٹھٹھے کے طور پر نہایت گندی گالیاں دیتا ہے اور بجز اُن گالیوں کے اُس کے اخبار اور اشتہار میں کچھ بھی نہیں اور اسی قدر حیثیت اس کی زنگی کے لفظ سے بھی مفہوم ہوتی ہے جو اس نے اپنے لئے مقرر کیا ہے۔ پس اُس کے بارے میں میموریل بھیجنا صرف اس غرض سے تھا کہ تا دکھلایا جائے کہ یہ لوگ کیسی گندی بدزبانی سے عادی اور ہم کو ناحق سخت گوئی سے متہم کرتے ہیں۔ چونکہ ہمارے مخالفوں نے شرارت سے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ ہماری تحریریں درشت اور سخت اور فتنہ انگیز ہیں اس لئے ضرور تھا کہ ہم گورنمنٹ کو اُن کی تحریروں کا کچھ نمونہ دکھلاتے جیسا کہ ہم نے کتاب البریت میں بھی کسی قدر نمونہ دکھلایا ہے لیکن میری جماعت کا یہ میموریل اُس حالت میں انجمن کے میموریل سے ہم رنگ اور ہم شکل ہو سکتا تھا کہ جبکہ انجمن کی طرح میری جماعت بھی زٹلی کے باز پرس اور سزا کے لئے کوئی درخواست کرتی اور ظاہر ہے کہ اُنہوں نے میموریل میں زٹلی کو آپ ہی معافی دے دی ہے اور لکھ دیا ہے کہ ہم کوئی سزا دلا نا اُس کو نہیں چاہتے۔ اب دیکھو یہ کس قدر اخلاقی امر ہے جس کو عمداً ابز رور نے ظاہر نہیں کیا تا حقیقت کے کھلنے سے اُس کا مطلب فوت نہ ہو۔ خلاصہ یہ کہ زٹلی کی اصل غرض صرف گالیاں دینا اور ٹھٹھا اور جنسی کرنا ہے مگر صاحب رسالہ امہات المومنین کی اصل غرض اعتراض کرنا ہے اور سخت زبانی اُس نے صرف اسی وجہ سے اختیار کی ہے کہ تا لوگ مشتعل ہو کر اُس کے اصل مقصود کی طرف توجہ نہ کریں۔ لہذا اُس کی گالیوں کی طرف توجہ کرنا اصل مطلب سے دور جا پڑنا تھا۔ پس یہ کس قدر غلطی ہے کہ ان دونوں میموریل کو ایک ہی صورت اور ایک ہی شکل کے خیال کیا جاتا ہے۔ ہمارا یہ اصول ہونا چاہیے کہ جب کسی مخالف کے کلام میں گالیاں اور اعتراض جمع