البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 630

البلاغ — Page 424

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۴۲۴ البلاغ ۔ فریا د درد (۵۳) اور کسی پر فریب کارروائی کا داغ لگاتی ہو۔ اس کا تحمل دینی مصالح کی رو سے ہرگز جائز نہیں کیونکہ اس سے عوام کی نظر میں ایک بدنمونہ قائم ہوتا ہے۔ ایسے موقعہ پر حضرت یوسف نے بھی مصر کی گورنمنٹ کو تنقیح حقیقت کے لئے توجہ دلائی تھی ۔ لہذا انجمن اور اس کے حامیوں کو چاہئیے کہ اس نصیحت کو خوب یادرکھیں اور ہم اس وقت اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ ہم نے انجمن حمایت اسلام کی مخالفت نہایت نیک نیتی سے کی تھی اور ہم ترسان اور لرزان تھے کہ یہ طریق جو انجمن نے اختیار کیا ہے ہرگز ہرگز اسلام کے لئے مفید نہیں ہے۔ کیا انجمن خطا سے محفوظ ہے؟ یا نبیوں کی طرح اپنے لئے معصوم کا لقب موزوں سمجھتی ہے۔ پھر ہماری نصیحت جو محض اخلاص پر مبنی تھی کیوں اس کو بُری لگی ۔ دانا کو چاہیے کہ معاملہ کے دونوں پہلوؤں پر نظر رکھ کر کسی پہلو کو اختیار کرے۔ ہم بڑے زور سے کہتے ہیں کہ یہ پہلو جو انجمن نے اختیار کیا ہمارے مولیٰ کریم کے اس منشاء کے ہرگز موافق نہیں ہے جو قرآن شریف میں ظاہر فرمایا گیا ہے اور ہم منتظر ہیں کہ دیکھیں کہ کونسی فتح نمایاں اس میموریل سے انجمن کو حاصل ہوتی ہے جو ان کورڈ لکھنے سے مستغنی کر دے گی۔ اگر فرض کے طور پر یہ بات بھی ہو کہ تمام شائع کردہ کتابیں پنجاب اور ہندوستان سے واپس منگائی جائیں اور پھر جلا دی جائیں یا اور طرح پر تلف کر دی جائیں اور آئندہ قانونی طور پر کسی وعید کے ساتھ دھمکی دے کر فہمائش ہو کہ کوئی پادری اسلام کے مقابل پر کبھی اور کسی وقت میں ایسے الفاظ استعمال نہ کرے پھر بھی یہ تمام کارروائی رڈ لکھنے کے قائم مقام نہیں ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ واقعی طور پر وہی ہلاک ہوتا ہے جو بعینہ سے ہلاک ہو۔ لیکن اگر انجمن کی درخواست پر کوئی ایسی کارروائی نہ ہوئی بلکہ کوئی معمولی اور غیر محسوس کارروائی ہوئی تو اس روز جس قدر مخالفوں کی شمانت ہوگی ظاہر ہے۔ لہذا ہمیں بار بار انجمن کی اس رائے پر رونا آتا ہے۔ افسوس کہ ان لوگوں نے رد لکھنے والوں کی راہ کو بھی بند کرنا چاہا ہے۔ افسوس کہ اس انجمن کو کیا یہ بھی بر نہیں تھی کہ مصنف کتاب امہات المومنین نے کتاب مذکورہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ کوئی مسلمان اس کا جواب نہیں دے سکے گا۔