البلاغ — Page 384
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۸۴ البلاغ - فریاد درد 1 نفرت پیدا کرتے جاتے ہیں۔ سو جس ضرر کا لوگوں کے ایمان پر اثر ہے اور جو ضر ر فی الواقع اعظم اور اکبر ہے وہی اس قابل ہے کہ سب سے پہلے اس کا تدارک کیا جائے ایسا نہ ہو کہ ہم ہمیشہ سزا دلانے کی فکروں میں ہی لگے رہیں اور ان شیطانی وساوس سے نادان لوگ ہلاک ہو جائیں۔ خدا تعالیٰ جو اپنے دین اور اپنے رسول کے لئے ہم سے زیادہ غیرت رکھتا ہے وہ ہمیں رڈ لکھنے کی جابجا ترغیب دے کر بد زبانی کے مقابل پر یہ حکم فرماتا ہے کہ ” جب تم اہل کتاب اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو اور ضرور ہے کہ تم آخری زمانہ میں بہت سے دل آزار کلمات سنو گے پس اگر تم اس وقت صبر کرو گے تو خدا کے نزدیک اولو العزم سمجھے جاؤ گئے۔ دیکھو یہ کیسی نصیحت ہے اور یہ خاص اسی زمانہ کے لئے ہے کیونکہ ایسا موقعہ اور اس درجہ کی تحقیر اور تو ہین اور گالیاں سنے کا نظارہ اس سے پہلے کبھی مسلمانوں کو دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ یہی زمانہ ہے جس میں کروڑہا تو ہین اور تحقیر کی کتابیں تالیف ہوئیں۔ یہی زمانہ ہے جس میں ہزار ہا الزام محض افترا کے طور پر ہمارے پیارے نبی ہمارے سید و مولی ہمارے ہادی و مقتدا جناب حضرت محمد مصطفی احمد مجتبی افضل الرسل خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگائے گئے سو میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ قرآن شریف میں یعنی سورہ آل عمران میں یہ حکم ہمیں فرمایا گیا ہے کہ " تم آخری زمانہ میں نا منصف پادریوں اور مشرکوں سے دکھ دینے والی باتیں سنو گے اور طرح طرح کے دل آزار کلمات سے ستائے جاؤ گے اور ایسے وقت میں خدا تعالیٰ کے نزدیک صبر کرنا بہتر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم بار بار صبر کے لئے تاکید کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب میرے پر ایک جھوٹا مقدمہ اقدام قتل کا پادریوں کی طرف سے قائم کیا گیا تو باوجود یکہ کپتان ڈگلس صاحب بہادر مجسٹریٹ ضلع نے بخوبی سمجھ لیا کہ یہ مقدمہ جھوٹا ہے مگر جب صاحب موصوف نے مجھے سے دریافت کیا کہ کیا تم ان پر نالش کرنا چاہتے ہو تو میں نے اسی وقت انشراح صدر سے کہہ دیا (جس کو صاحب موصوف نے اس کیفیت کے ساتھ لکھ لیا ) کہ میں ہر گز نہیں چاہتا کہ نالش کروں ۔ اس کی کیا وجہ تھی ۔ یہی تو تھی کہ خدا تعالیٰ صاف قرآن شریف