البلاغ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 362 of 630

البلاغ — Page 362

روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۶۲ قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا اسی کی طرف اللہ جل شانہ نے اشارہ فرمایا ہے:۔ ى إِنِّي مُتَوَفِّيْكَ وَرَافِعُكَ إِلَى ہے یعنی اے عیسی میں تجھے طبعی وفات دوں گا اور اپنی طرف تیرا رفع کروں گا یعنی تو مصلوب نہیں ہو گا۔ اس آیت میں یہود کے اس قول کا رد ہے کہ وہ کہتے تھے کہ عیسی مصلوب ہو گیا اس لئے ملعون ہے۔ اور خدا کی طرف اس کا رفع نہیں ہوا۔ اور عیسائی کہتے تھے کہ تین دن لعنتی رہ کر پھر رفع ہوا۔ اور اس آیت نے یہ فیصلہ کیا کہ بعد وفات بلا توقف خدا تعالیٰ کی طرف عیسی کا رفع روحانی ہوا اور خدا تعالیٰ نے اس جگہ رافعک الی السماء نہیں کہا بلکہ رَافِعُكَ اِلَى فرمایا تا رفع جسمانی کا شبہ نہ گزرے۔ کیونکہ جو خدا کی طرف جاتا ہے وہ روح سے جاتا ہے نہ جسم سے ارجعی الی رَبَّكِ " اس کی نظیر ہے ۔ غرض اس طرح پر یہ جھگڑا فیصلہ پایا۔ مگر ہمارے نادان مخالف جو رفع جسمانی کے قائل ہیں وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جسمانی رفع امر متنازع فیہ نہ تھا۔ اور اگر اس بے تعلق امر کو بفرض محال قبول کر لیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ جو روحانی رفع کے متعلق یہود اور نصاریٰ میں جھگڑا تھا۔ اس کا فیصلہ قرآن کی کن آیات میں بیان فرمایا گیا ہے۔ آخر لوٹ کر اسی طرف آنا پڑے گا کہ وہ آیات یہی ہیں۔ یہ تو نفلی طور پر ہمارا الزام مخالفین پر ہے ۔ اور ایسا ہی عقلی طور پر بھی وہ ملزم ٹھہرتے ہیں۔ کیونکہ جب سے دنیا کی بنا ڈالی گئی ہے یہ عادت اللہ نہیں کہ کوئی شخص زندہ اسی جسم عصری کے ساتھ کئی سو سال آسمان پر بود و باش اختیار کرے اور پھر کسی دوسرے وقت زمین پر اتر آوے۔ اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو دنیا میں کئی نظیر یں اس کی پائی جاتیں۔ یہودیوں کو یہ گمان تھا کہ ایلیا آسمان پر گیا اور پھر آئے گا۔ مگر خود حضرت مسیح نے اس گمان کو باطل ٹھہرایا اور ایلیا کے نزول سے مراد یوحنا کو لے لیا جو اسلام میں بیٹی کے نام سے موسوم ہے حالانکہ ظاہر نص یہی کہتا تھا کہ ایلیا واپس آئے گا۔ ہر ایک فوق العادۃ عقیدہ کی نظیر طلب کرنا محققوں کا کام ہے تاکسی گمراہی میں نہ پھنس جائیں۔ کیونکہ جو بات خدا کی طرف سے ال عمران: ۵۶ الفجر : ٢٩