البلاغ — Page 360
روحانی خزائن جلد ۱۳ ۳۶۰ فرمایا گیا کہ مسیح موعود کا نور نزول فرما کر اس جگہ تک پھیلے گا جہاں تثلیث کا مسقط الراس ہے مگر افسوس کہ علماء مخالفین نے اس صاف اور صریح مسئلہ کو قبول نہیں کیا۔ پھر یہ بھی نہیں سوچا کہ قرآن شریف اس لئے آیا ہے کہ تا پہلے اختلافات کا فیصلہ کرے۔ اور یہود اور نصاری نے جو حضرت عیسی کے رفع الی السماء میں اختلاف کیا تھا جس کا قرآن نے فیصلہ کرنا تھا۔ وہ رفع جسمانی نہیں تھا۔ بلکہ تمام جھگڑا اور تنازع روحانی رفع کے بارے میں تھا۔ یہود کہتے تھے کہ نعوذ باللہ عیسی لعنتی ہے ۔ یعنی خدا کی درگاہ سے رڈ کیا گیا اور خدا سے دور کیا گیا اور رحمت الہی سے بے نصیب کیا گیا جس کا رفع الی اللہ ہر گز نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ مصلوب ہوا ۔ اور مصلوب توریت کے حکم کے رو سے رفع الی اللہ سے بے نصیب ہوتا ہے۔ جس کو دوسرے لفظوں میں لعنتی کہتے ہیں ۔ توریت کا یہ منشاء تھا کہ سچا نبی کبھی مصلوب نہیں ہوتا ۔ اور جب مصلوب جھوٹا ٹھہرا تو بلاشبہ وہ لعنتی ہوا جس کا رفع الی اللہ غیر ممکن ہے۔ اور اسلامی عقیدہ کی طرح یہود کا بھی عقیدہ تھا کہ مومن مرنے کے بعد آسمان کی طرف اٹھایا جاتا ہے اور اس کے لئے آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ اور حضرت عیسی کے کافر ٹھہرانے کے لئے یہود کے ہاتھ میں یہ دلیل تھی کہ وہ سولی دیا گیا ہے۔ اور جو شخص سولی دیا جائے اس کا توریت کے رو سے رفع الی السماء نہیں ہوتا یعنی وہ مرنے کے بعد آسمان کی طرف نہیں اٹھایا جاتا۔ بلکہ ملعون ہو جاتا ہے۔ لہذا اس کا کافر ہونا لازم آیا اور اس دلیل کے ماننے سے عیسائیوں کو چارہ نہ تھا کیونکہ توریت میں ایسا ہی لکھا ہوا تھا۔ تو انہوں نے اس بات کے ٹالنے کیلئے دو بہانے بنائے ۔ ایک یہ کہ اس بات کو مان لیا کہ بیشک یسوع جس کا دوسرا نام عیسی ہے مصلوب ہو کر لعنتی ہوا ۔ مگر وہ لعنت صرف تین دن تک رہی پھر بجائے اس کے رفع الی اللہ اس کو حاصل ہوا۔ اور دوسرا یہ بہانہ بنایا گیا کہ چند ایسے آدمیوں نے جو حواری نہیں تھے