آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 48
روحانی خزائن جلد ۵ ۴۸ آئینہ کمالات اسلام ہیں پر کرتے نہیں اور دکھلاتے ہیں پر خود چلتے نہیں اس لئے خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دیں اور ان کے فہم اور سمجھ کو موٹا کر دیا۔ کیونکہ یہ سنت اللہ ہے کہ جب تک کوئی بار یک احتیاط کے ساتھ اعمال صالحہ بجا نہ لاوے تب تک باریک بھید اس کے دل کو عطا نہیں کئے جاتے ۔ یہ تو حال علماء کا ہے مگر افسوس کہ ہمارے فقراء کا حال اس سے بدتر معلوم ہوتا ہے إِلَّا مَا شَاءَ الله ہماری قوم میں اکثر ایسے ہی فقیر نظر آتے ہیں جنہوں نے اسلام پر یہ داغ لگایا کہ ہزار ہا ایسی بدعتیں ایجاد کر دیں کہ جن کا شرع شریف میں کوئی اصل صحیح نہیں پایا جاتا وہ ایسی بے ہودہ رسوم اور خیالات میں گرفتار ہیں کہ جن کے لکھنے سے بھی شرم آتی ہے بعض تو ہندوؤں کے جوگیوں کی طرح اور قریب قریب ان کی ایک خاص طور کی وضع اور پوشاک میں عمر بسر کرتے ہیں۔ اور نہایت بے جا اور وحشیانہ ریاضتوں میں جو مسنون طریقوں سے کوسوں دور ہیں اپنی عمر کو ضائع کر رہے ہیں ۔ ان کے چہروں کو دیکھنے سے ایسے آثار قہر الہی معلوم ہوتے ہیں اور ایسی مقہور شکل دکھائی دیتی ہے کہ شاید عالم سفلی میں اس سے زیادہ بدبختی پر دلالت کرنے والی اور کوئی شکل نہ ہو۔ اکثر فقراء میں بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کو وہ اپنے دلوں میں ایک کمال خیال کرتے ہیں اور اس بات کی دلیل ٹھہراتے ہیں کہ گویا انہوں نے ایک بہت سا حصہ سلوک کا طے کر لیا ہے مگر دراصل وہ باتیں صرف جاہلا نہ خیالات اور وحشیانہ حرکات ہیں اور سچے معارف سے ایسی دور ہیں کہ جیسے ایک تیز دھوپ کے وقت بادل دنیا سے دور ہوتا ہے۔ یہ لوگ دینی خدمت کچھ بھی بجا نہیں لا سکتے اور سستی اور تضیع اوقات اور بے قیدی اور آرام طلبی اور مردہ طبعی اور لاف زنی کی زندگی کا ایک قومی اثر ان پر معلوم