آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 712 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 712

روحانی قیامت کا اصل نمونہ نبی کریمؐ تھے ۲۰۵ح قرب قیامت کی نشانی ۶۰۵ کائنات الجو اس میں تغیر و حدوث کی دو علتیں ۱۲۳ح،۱۲۹ح کبریائی کبریائی اور تکبر میں فرق ۶۵۶ کرامت کرامت کیا چیز ہے؟ ۲۴۵ اولیاء کی اعلیٰ درجہ کی کرامت ۱۷۸ کشف عالم کشف میں جسمانی اشکال دیکھنے کی حقیقت ۱۴۹ کشف کی ایک اعلیٰ قسم یہ کہ بالکل بیداری میں ہونا ۱۵۰ عارف پر کشفی رنگ میں معاد کی خبروں کا کھلنا ۱۵۲ کشف میں انسان کا عالم صغیر ہونا ۱۷۴ح عارفوں کا کشف میں فرشتوں کو روحانی آنکھ سے دیکھنا اور ان سے علم اخذ کرنا ۱۸۲ح کفر متقی اور حلال زادہ بے تحقیق کامل کسی پر فسق اور کفر کا الزام نہیں لگاتا ۲۹۲ جزئیات کے اختلاف کی و جہ سے جھٹ پٹ کسی کا نام کافر رکھ دینا بہت بڑی بات ہے ۲۵۸ مسلمان مؤحد کو کافر کہہ دینا ایک نہایت نازک امر ہے ۳۳ جو مسلمان کو کافر کہے وہ وہی نتائج بھگتے گا جن کا نا حق کے مکفرین کے لئے آپؐ نے وعدہ دے رکھا ہے ۳۰۹ اس زمانہ میں کسی کو کافر ٹھہرانا بہت ترقی کر گیا ہے ۳۱ عقائد اسلام کا پابند ہونے کے باوجودعلماء کا کافر ٹھہرانا ۳۲ کلام زمانہ کی حالت کے موافق خدا کے کلام کا ثبوت ۳۹ کلام الٰہی کے بعض مقامات بعض کی شرح ہیں ۱۶۶ مکالمہ الٰہیہ اور الہام میں فرق ۲۳۱ مکالمہ الٰہیہ کی غرض ۲۳۲ مکالمہ الٰہیہ کے حصول کا طریق ۲۳۳ ایمانی روح کے ذریعہ خدا کا کلام سننا ۲۸۴ کلام الٰہی کے چھ مراتب ۲۰۷، ۲۱۱ کلام الٰہی میں یہود کی تحریف ۲۲۹ح مکالمہ الٰہیہ کے مقام پر ملنے والے انعامات ۲۳۷ جسے مکالمہ الٰہیہ نصیب ہو وہ کب اور کن حالات میں افاضہ کلام الٰہی کا زیادہ تر مستحق ہوتا ہے؟ ۲۳۹ گناہ ایمان گناہوں کو دھونے کے لئے چشمہ ہے ۲۷۰ح گناہ گار قوم کی آزمائش کا طریق ۴۲۹ ل،م ، ن لغت لغات زبان کے متعلق جھگڑوں کو دور کرتی ہیں ۵۵۴ح کتب لغت قرآن کے لئے حکَم نہیں ۱۳۷ لقا یہ مرتبہ کب سالک کیلئے کامل طور پر متحقق ہوتا ہے ۶۴ اس درجہ کی کیفیت اور اس درجہ پر سالک کی حالت ۷۰ اس مرتبہ پر شیطان کا کالعدم ہوجانا ۸۲ بقا اور لقا کسبی نہیں بلکہ وہبی ہیں ۷۱ اس مرتبہ پرروح القدس کسی حال میں جدا نہیں ہوتا ۷۲ اس مقام پر پہنچنے والوں کا نام بعض اہلِ تصوف نے اطفال اللہ رکھا ہے ۶۴ اللہ اور مرتبہ لقاء پر فائز شخص کے اقتداری کاموں میں فرق ۶۷ خدا اور لقاء کے مرتبہ پر فائر شخص کے کُن میں مشابہت ۶۸ اس درجہ میں بعض ایسے امور کا صادر ہونا جو بشریت کی طاقتوں سے بڑھے ہوئے الٰہی طاقت اندر رکھتے ہیں ۶۵،۶۸