آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 696
اب وقت آ گیا ہے کہ بتوں کو بکلی توڑ دیا جائے اور خدا پرست لوگ گم گشتہ حقیقتوں کو پھر پا لیویں ۳۶ احکام الٰہی ۶۰۰ ہیں ۱۹۶ تمام احکام الٰہی ۶۰۰ سے کچھ زیادہ ہیں ۱۸۷ اعتراض کا جواب کہ خدا کو آزمائش کی کیا ضرورت ہے ۸۲ ح ح اس اعتراض کا جواب کہ اللہ کو فرشتوں سے کام لینے کی کیا حاجت ہے ۸۵ح اس اعتراض کا جواب کہ چھ دن میں زمین و آسمان کو پیدا کرنا خدا کے ضعف پر دلالت کرتا ہے ۱۶۰ح ح ہستی باری تعالیٰ اللہ کی ہستی کا ثبوت ۸۸ وجود باری اور اس کا واحد لا شریک ہونا اسلامی حکمت اور معرفت کا مرکز ہے ۲۴۴ح خدا کی ہستی اور اس کی صفات کاملہ ایمانیات میں سب سے مقدم ہیں ۲۴۸ح خدا کے متعلق فلسفیوں کے خیالات ۲۴۴ح مغربی فلسفیوں کے اقوال میں خدائی کا دعویٰ ۳۴۴ قرآن خدا کے وجود کے ثبوتوں سے بھرا ہواہے ۲۰۷ح ح تمام اہل مذاہب کا خدا کے موجود ہونے پر اتفاق ۲۷۴ صفات باری تعالیٰ رحمانیت سے معرفت کی ابتدا ۱۸۸ اللہ کی قدرت اور طاقت کی حقیقت ۱۶۱ح ح اللہ کے حسن اور اس کی صفات کی خوبیوں کا بیان ۱۸۲ اللہ کی صفاتِ قہریہ اور لطیفہ کے ظہور کا طریق ۱۶۷ح ح خدا کی قیومیت کا ہم پر اثر ۱۷۱ح دنیا کی کوئی چیز اپنے ہر ایک خاصہ میں مستقل بالذات نہیں بلکہ خدا کے سہارے سے ہے ۱۷۱ح اللہ کے کاموں میں وحدت اور تناسب ۱۳۴ح اللہ کی تمام قدرتوں کے اسباب کے توسط سے ظاہر ہونے میں حکمتیں ۸۵ح خدا بغیر وسائط کے کام نہیں کرتا ۲۱۲ح اللہ کی ذات غنی ہے جب تک کسی میں تذلل اور انکسار نہیں دیکھتا اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا ۳۴۹ خدا تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے ۲۴۴ اللہ کی رحمتوں کے آثار اور نشانات ۳۶۴ ہمیشہ خدا ضرورتوں کے موافق اپنے دین کی مدد کرتارہا ہے ۳۹ اسلام کا خدا ہرنئی دنیا کے لئے نشان دکھاتا ہے ۲۴۷ حکمت سے مراد علم عظمت ذات و صفات باری ہے ۱۸۶ تعلق باللہ خالق کی اطاعت کی حقیقت ۶۱ اللہ تعالیٰ ایک ذرہ محبت خالصہ کو ضائع نہیں کرتا ۷۸ح جسے محبت الٰہی کا دعویٰ ہے لیکن کلامِ الٰہی جاننے سے لاپرواہ ہے وہ ہرگز محب صادق نہیں ۳۶۱ خدا پر مستحکم ایمان کا طریق ۳۸ امت محمدیہ پر الٰہی طاقت کا پرتوہ سب سے زیادہ ہے ۶۷ خدا کا بطور تمثل اہل کشف کو صورت بشر پر نظر آنا ۱۲۱ ادنیٰ سے ادنیٰ نیکی کا خیال روح القدس سے پیدا ہوتا ہے ۸۰ح دنیا میں خدا کو طلب کرنے والے بہت کم ہیں ۱۵۸ح بڑی خرابی جو افعالِ شنیعہ کا موجب اور آخرت کی طرف سر نہیں اٹھانے دیتی وہ خدا پر ایمان میں کمی ہے ۱۵۹ح ح اس زمانہ میں خدا پر ایمان نہ لانے کی و جہ ۱۶۰ح خدا کے سچے طالب پر نازل ہونے والے انعامات ۲۲۷ اس زمانہ کی خرابیوں کو صرف خدا دور کر سکتا ہے ۴۶،۵۰ ایمان رضائے الٰہی اور مراتب قرب کا زینہ ۲۷۰ح وہ جسے عزیز رکھتا ہے اسے ایمانی فراست عطا کرتا ہے ۳۵۰ اللہ جنہیں اپنے انعامات قرب سے مشرف کرے وہ انسانی کمالات میں سے بھی ایک حصہ وافر رکھتے ہیں ۳۶۲ الٰہی اور انسانی محبت کے ملاپ سے جو نور پیدا ہو وہ روح القدس سے موسوم ہے ۷۹ح اللہ کا مخلوق کو متشارک الصفات رکھنے اور بعض کو بعض کا مثیل ٹھہرانے کی و جہ ۴۴