آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 643 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 643

روحانی خزائن جلد ۵ ۶۴۱ آئینہ کمالات اسلام منظور نہ کرے۔ اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے۔ 0 ع ۔ ہیں تفاوت ره از کجا است تا یکجا ۔ یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ ہر صدی میں ہزاروں اولیاء ( جن پر ان کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں ) گذرے ہیں۔ اور کم و بیش ان کے مرید ان کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔ یہ نتیجہ ہے نیکوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔ مرزا صاحب کو چونکہ سچی محبت اپنے مولا سے ہے اس لئے آسمان سے قبولیت اتری ہے اور رفتہ رفتہ باوجود مولویوں کی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی الفت ترقی کرتی جارہی ہے (اگر چہ ابوسعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں ) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج ماشاء اللہ آفتاب پنجاب بنے ہوئے ہیں اپنے حال میں غور فرمادیں کہ کس قدر سچے محبت ان کے ہیں اور ان کے بچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے۔ شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے مگر اب تو انہیں حب جاہ اور علم وفضل کے فخر نے عرش عزت سے خاک مذلت پر گرادیا۔ انا لله و انا اليه راجعون۔ اب مولوی صاحب غور فرما دیں کہ یہ کیا پتھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علماء پنجاب (بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑنا پڑا۔ موحدین کی جامع مسجد میں اگر اتفا قالا ہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے ۔ اور مرزا صاحب کے پاس ( جو بزعم مولوی صاحب کافر بلکہ اکفر اور دجال ہیں)۔ گھر بیٹھے لاہور، امرتسر، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ، کپورتھلہ ، لدھیانہ، بمبئی ، مالک شمال و مغرب، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔ پھر آنے والے بدعتی نہیں۔ مشرک نہیں ۔ جاہل نہیں۔ کنگال نہیں بلکہ موحد - اہلحدیث ۔ مولوی ۔ مفتی ۔ پیرزادے۔ شریف ۔ امیر ۔ نواب ۔ وکیل ۔ اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کو کس قدر چڑھایا اور کس قدر