آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 34 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 34

روحانی خزائن جلده ۳۴ آئینہ کمالات اسلام (۳۳) گذشتہ اکابر اور اماموں کو ان تکفیر کے فتووں سے بری کر دیا اور نہ صرف بری بلکہ ان کی قطبیت اور غوثیت اور اعلیٰ مراتب ولایت کے قائل بھی ہو گئے اور اسی طرح علماء کی عادت رہی اور ایسے سعید ان میں سے بہت ہی کم نکلے جنہوں نے مقبولان درگاہ الہی کو وقت پر قبول کر لیا امام کامل حسین رضی اللہ عنہ سے لیکر ہمارے اس زمانہ تک یہی سیرت اور خصلت ان ظاہر پرست مدعیان علم کی چلی آئی کہ انہوں نے وقت پر کسی مرد خدا کو قبول نہیں کیا خدائے تعالیٰ نے یہودیوں کی نسبت قرآن کریم میں بیان فرمایا تھا کہ اَفَكُلَّمَا جَاءَكُمْ رَسُولُ بِمَا لَا تَهْوَى أَنْفُسُكُمُ - الخ یعنی اے بنی اسرائیل کیا تمہاری یہ عادت ہو گئی کہ ہر ایک رسول جو تمہارے پاس آیا تو تم نے بعض کی ان میں سے تکذیب کی اور بعض کو قتل کر ڈالا ۔ سو یہی خصلت اسلام کے علماء نے اختیار کر لی تا یہودیوں سے پوری پوری مشابہت پیدا کریں سو انہوں نے نقل اتارنے میں کچھ فرق نہیں رکھا اور ضرور تھا کہ ایسا ہوتا کہ تا وہ سب باتیں پوری ہو جائیں جو ابتدا سے رسول کریم نے اس مشابہت کے بارہ میں فرمائی تھیں ۔ ہاں علماء نے مقبولوں کو قبول بھی کیا اور بڑی ارادت بھی ظاہر کی یہاں تک کہ ان کی جماعت میں بھی داخل ہو گئے مگر اس وقت کہ جب وہ اس دنیا نا پائیدار سے گذر گئے اور جب کہ کروڑ ہا بندگان خدا پر ان کی قبولیت ظاہر ہو گئی ۔ ولله در القائل جب مر گئے تو آئے ہمارے مزار پر پتھر پڑیں صنم تیرے ایسے پیار پر اور میری حالت جو ہے وہ خدا وند کریم خوب جانتا ہے اس نے مجھ پر کامل طور پر اپنی برکتیں البقرة: ٨٨