آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 339
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۳۹ آئینہ کمالات اسلام نشان ظاہر ہوئے تب انہوں نے کہا کہ اب قبول کرنے سے مرنا بہتر ہے غرض نظر دقیق سے ﴿۳۳۹ صادق کے صدق کو شناخت کرنا سعیدوں کا کام ہے اور نشان طلب کرنا نہایت منحوس طریق اور اشقیا کا شیوہ ہے جس کی وجہ سے کروڑ ہا منکر ہیزم جہنم ہو چکے ہیں خدائے تعالیٰ اپنی سنت کو نہیں بدلتا وہ جیسا کہ اس نے فرما دیا ہے انہی کے ایمان کو ایمان سمجھتا ہے جو زیادہ ضد نہیں کرتے۔ اور قرائن مرجحہ کو دیکھ کر اور علامات صدق پا کر صادق کو قبول کر لیتے ہیں اور صادق کا کلام صادق کی راستبازی صادق کی استقامت اور خود صادق کا منہ ان کے نزدیک اس کے صدق پر گواہ ہوتا ہے۔ مبارک وہ جن کو مردم شناسی کی عقل دی جاتی ہے۔ ماسوا اس کے جو شخص ایک نبی متبوع علیہ السلام کا متبع ہے اور اس کے فرمودہ پر اور کتاب اللہ پر ایمان لاتا ہے اس کی آزمائش انبیاء کی آزمائش کی طرح کرنا ایک قسم کی نا مجھی ہے کیونکہ انبیا ء اس لئے آتے ہیں کہ تا ایک دین سے دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرا دیں اور بعض احکام کو منسوخ کریں اور بعض نئے احکام لاویں۔ لیکن اس جگہ تو ایسے انقلاب کا دعویٰ نہیں ہے وہی اسلام ہے جو پہلے تھا۔ وہی نمازیں ہیں جو پہلے تھیں ۔ وہی رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم ہے جو پہلے تھا اور وہی کتاب کریم ہے جو پہلے تھی ۔ اصل دین میں سے کوئی ایسی بات چھوڑنی نہیں پڑی جس سے اس قدر حیرانی ہو۔ مسیح موعود کا دعویٰ اس حالت میں گراں اور قابل احتیاط ہوتا کہ جبکہ اس دعویٰ کے ساتھ نعوذ باللہ کچھ دین کے احکام کی کمی بیشی ہوتی اور ہماری عملی حالت دوسرے مسلمانوں سے کچھ فرق رکھتی۔ اب جبکہ ان باتوں میں سے کوئی بھی نہیں صرف مایہ النزاع حیات مسیح اور وفات مسیح ہے اور مسیح موعود کا دعوی اس مسئلہ کی در حقیقت ایک فرع ہے اور اس دعویٰ سے مراد کوئی عملی انقلاب نہیں اور نہ اسلامی اعتقادات پر اس کا کچھ مخالفانہ اثر ہے تو کیا اس دعویٰ کے تسلیم کرنے کیلئے کسی بڑے معجزہ یا کرامت کی حاجت ہے جس کا مانگنا رسالت کے دعوئی میں عوام کا قدیم شیوہ ہے ایک مسلمان جسے تائید اسلام کیلئے خدائے تعالیٰ نے بھیجا۔ جس کے مقاصد یہ ہیں کہ تا دین اسلام کی خوبیاں لوگوں پر ظاہر کرے اور آج کل کے فلسفی وغیرہ الزاموں سے اسلام کا پاک ہونا ثابت کر دیوے اور مسلمانوں کو اللہ اور رسول کی محبت کی طرف رجوع دلاوے کیا اس کا قبول کرنا ایک منصف مزاج اور خدا ترس آدمی پر کوئی مشکل امر ہے؟