آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 317
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۱۷ آئینہ کمالات اسلام اشاعت تا نظر ثانی وحکم ثانی جائز نہیں ہوتی تو آپ اپنے ملہم ہی سے کیوں نہیں پوچھ ﴿۳۷﴾ لیتے کہ میں اس الہام کو شائع کروں یا نہ کروں اور اگر کروں گا تو کسی قانون کے شکنجہ میں تو نہ پھنسایا جاؤں گا۔ آپ کی اس اجازت چاہنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ الہام کی آڑ میں مجھے گالیاں دینا چاہتے ہیں ۔ اور ایسے الفاظ لکھنے اور مشتہر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس سے میری حیثیت عرفی کا ازالہ ہو اور میرے اور میرے عزیزوں اور اقارب کی دل شکنی ہو اور ان کو رنج پہنچے چنانچہ پہلے بھی آپ نے اس قسم کے الہام میری نسبت شائع کئے ہیں ومع هذا آپ قانونی گرفت کا بھی اندیشہ رکھتے ہیں اور حکام وقت کو اپنے مہم کی نسبت زبر دست سمجھتے ہیں ۔ لہذا میں ایسے الہام کی اشاعت کی اجازت عام نہیں دے سکتا۔ ہاں اس قسم کی اجازت سے میں رک بھی نہیں سکتا کہ آپ اپنے اور تابعین کے الہامات کو جہاں تک کہ قانون ان کی اشاعت کی اجازت دیتا ہے شائع کریں۔ اور اپنے ملہم کمزور و ڈرپوک کو ( جو یقینا خدا تعالیٰ نہیں بلکہ معلم الملکوت ہے ) حکام وقت سے مغلوب سمجھ کر اس کے حکم کی تعمیل کو حکام وقت کے قانون کے تابع رکھیں ۔ اس کا آپ نے خلاف کیا تو آپ کو کورٹ میں پھر کسی اور آرام گاہ میں آنا پڑے گا۔ آپ کے پچھلے الہامات بھی میری نگاہ میں ہیں اور ان کی نسبت تدارک کا ارادہ بھی ہنوز ملتوی نہیں ہوا ۔ میں یہ کہنا بھی نا مناسب نہیں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ خدا سے ہم کلام ہونے کا شرف رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے مجملات کی تفصیل پوچھ سکتے ہیں اور مع هذا بنی نوع سے ہمدردی رکھتے ہیں (جیسا کہ آپ نے اپنے خط میں دعویٰ کیا ہے ) تو بجائے مجھے دھمکانے اور ڈرانے کے آپ میری نسبت خدا تعالیٰ سے پہلے یہ دریافت کریں کہ جو منذر الہام آپ کو اس