آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 306
روحانی خزائن جلد ۵ ۳۰۶ آئینہ کمالات اسلام (۳۰) اپنے اوپر وارد کر رہے ہیں۔ میں نے ہرگز کسی کے پاس یہ نہیں کہا کہ اس کا مصداق آپ ہیں اور جو بعض درشت کلمات کی آپ شکایت کرتے ہیں یہ بھی بے جا ہے ۔ آپ کی سخت بد زبانیوں کے جواب میں آپ کے کا فرٹھہرانے کے بعد آپ کے دجال اور شیطان اور کذاب کہنے کے بعد اگر ہم نے آپ کی موجودہ حالت کے مناسب آپ کو کچھ حق حق کہہ دیا تو کیا بُرا کیا آخر و اغلظ عَلَيْهِمُ کا بھی تو ایک وقت ہے۔ آپ کا یہ خیال کہ گویا یہ عاجز براہین احمدیہ کی فروخت میں دس ہزار روپیہ لوگوں سے لیکر خورد برد کر گیا ہے۔ یہ اس شیطان نے آپ کو سبق دیا ہے جو ہر وقت آپ کے ساتھ رہتا ہے آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ میری نیت میں براہین کا طبع کرنا نہیں۔ اگر براہین طبع ہو کر شائع ہوگئی تو کیا اس دن شرم کا تقاضا نہیں ہوگا کہ آپ غرق ہو جائیں۔ ہر ایک دیر بدظنی پر مبنی نہیں ہو سکتی اور میں نے تو اشتہار بھی دے دیا تھا کہ ہر یک مستعجل اپنا روپیہ واپس لے سکتا ہے اور بہت سا روپیہ واپس بھی کر دیا۔ قرآن کریم جس کی خلق اللہ کو بہت ضرورت تھی اور جو لوح محفوظ میں قدیم سے جمع تھا تئیس ۲۳ سال میں نازل ہوا اور آپ جیسے بدظنوں کے مارے ہوئے اعتراض کرتے رہے کہ لَوْلَا نُزِلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً قولہ جب سے آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ مشتہر کیا ہے اس دن سے آپ کی کوئی تحریر کوئی تقریر کوئی خط کوئی تصنیف جھوٹ سے خالی نہیں۔ اقول اے شیخ نامہ سیاہ ۔ اس دروغ بے فروغ کے جواب میں کیا کہوں اور کیا لکھوں، خدائے تعالیٰ تجھ کو آپ ہی جواب دیوے کہ اب تو حد سے بڑھ گیا۔ اے بد قسمت انسان تو ان بہتانوں کے ساتھ کب تک جئے گا۔ کب تک تو اس لڑائی میں جو خدا تعالیٰ سے لڑ رہا ہے موت سے بچتا رہے گا۔ اگر مجھ کو تو نے یا کسی نے اپنی نابینائی سے دروغ گو سمجھا تو التحريم :١٠ الفرقان :۳۳