آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 169

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۶۹ آئینہ کمالات اسلام ظَلُومًا جَهُولا ے ایک نظر غور کی کریں تو یقینی طور پر معلوم ہوگا کہ وہ امانت جوفرشتوں ﴿۱۹﴾ اور زمین اور پہاڑوں اور تمام کو اکب پر عرض کی گئی تھی اور انہوں نے اٹھانے سے انکار کیا تھا وہ جس وقت انسان پر عرض کی گئی تھی تو بلا شبہ سب سے اوّل انبیاء اور رسولوں کی روحوں پر عرض کی گئی ہوگی کیونکہ وہ انسانوں کے سردار اور انسانیت کے حقیقی مفہوم کے اول المستحقین ہیں پس اگر ظلوم اور جمہول کے معنے یہی مراد لئے جائیں جو کافر اور مشرک اور پکے نافرمان کو کہتے ہیں تو پھر نعوذ باللہ سب سے پہلے انبیاء کی نسبت اس نام کا اطلاق ہوگا۔ لہذا یہ بات نہایت روشن اور بدیہی ہے کہ ظلوم اور جمہول کا لفظ اس جگہ محل مدح میں ہے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کے حکم کو مان لیا جاوے اور اس سے منہ پھیرنا موجب معصیت نہیں ہوسکتا یہ تو عین سعادت ہے تو پھر ظلوم اور جہول کے حقیقی معنے جو ابا اور سرکشی کو مستلزم ہیں کیونکر اور خدا تعالی کے وجود سے ظلی طور پر مشابہت تامہ رکھتے ہوں اور مجوب بانفسہا نہ ہوں ۔ دوسری جہت مخلوقیت کی جس کی وجہ سے وہ دوسری مخلوقات سے مناسبت رکھیں اور اپنی تا خیرات کے ساتھ ان سے نزدیک ہو سکیں سو خدا تعالیٰ کے اس ارادہ سے اس عجیب مخلوق کا وجود ہو گیا جس کو ملائک کہتے ہیں ۔ یہ ملائک ایسے فنا فی طاعت اللہ ہیں کہ اپنا ارادہ اور فیشن اور توجہ اور اپنے ذاتی قومی یعنی یہ کہ اپنے نفس سے کسی پر مہربان ہونا یا اس سے ناراض ہو جانا اور اپنے نفس سے ایک بات کو چاہنا یا اس سے کراہت کرنا کچھ بھی نہیں رکھتے بلکہ بکلی جوارح الحق کی طرح ہیں خدا تعالیٰ کے بدن جس کی سالہائے دراز میں ظاہری اور باطنی تکمیل ہوئی تھی ایک ہی دم میں اس کو چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے اب جس قدر میں نے اس اعتراض کے جواب میں لکھا ہے میری دانست میں کافی ہے اس لئے میں اسی پر بس کرتا ہوں لیکن یہ بات کھول کر یاد دلانا ضروری ہے کہ الاحزاب : ۷۳