آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 156
روحانی خزائن جلد ۵ آئینہ کمالات اسلام (۱۵۲) وَيُنَى اللَّهُ الَّذِينَ اتَّقَوْا بِمَفَازَتِهِمْ لَا يَمَسُّهُمُ السُّوءُ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ الجز و نمبر ۲۴ سورة الزمر یعنی قیامت کے دن تو دیکھے گا کہ جنہوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولا ان کے منہ کالے ہیں۔ (اور کیوں کالے نہ ہوں ) کیا یہ لائق نہیں کہ متکبر لوگ جہنم میں ہی گرائے جائیں اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو نجات دے گا اس طور سے کہ ان کو ان کی مرادات تک پہنچائے گا ان کو برائی نہیں لگے گی اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اب یہ آیت اُس پہلی آیت کی گویا تفسیر کرتی ہیں کیونکہ اس میں نجات دینے کی حقیقت یہ کھولی ہے کہ وہ اپنی مرادات کو پہنچ جائیں گے اور یہ بھی ظاہر کر دیا کہ وہ اس دن برائی کی مس سے بالکل محفوظ ہوں گے ایک ذرا تکلیف ان کو چھوئے گی بھی نہیں اور غم ان کے نزدیک نہیں آئے گا۔ اور اس آیت وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا وَارِدُھانے کے یہ معنے بھی ہو سکتے ہیں کہ دراصل حاشیه کی شناخت عطا نہیں ہوئی اور تدابیر اور تعدیل اور مصلحت شناسی کی قوتیں بخشی نہیں گئیں ہاں ایک طبعی اور دہری جو خدا تعالیٰ کے وجود سے ہی منکر ہے ضرور ایسا خیال کرے گا مگر وہ ساتھ ہی غفلت کی وجہ سے یہ بھی کہے گا کہ جو کچھ اجرام سماوی یا عناصر اور کائنات الجو سے ظہور میں آرہا ہے وہ بر وفق حکم اور مصلحت نہیں ہے اور نہ خدا موجود ہے ت اس کو حکمت اور مصلحت سے کام کرنے والا مان لیا جائے بلکہ اتفاقاً اجرام علوی اور اور پھر زمین پر ان تاثیرات کو ڈالتے ہیں۔ چنانچہ اس کی تصریح اس آیت میں موجود ہے۔ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمُوتٍ وَ مِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ يَتَنَزَّلُ الْأَمْرُ بَيْنَهُنَّ لِتَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ وَأَنَّ اللهَ قَدْ اَحَاطَ بِكُلِّ شَيْءٍ عِلْمًا - الجز نمبر ٢٨ یعنی خدائے تعالی نے آسمانوں کو سات پیدا کیا اور ایسا ہی زمینیں بھی سات ہی پیدا کیں اور ان سات آسمانوں کا اثر جو با مرالہی ان میں پیدا ہے سات زمینوں میں ڈالا تا کہ تم لوگ معلوم کر لو کہ خدا تعالیٰ ہر ایک چیز کے بنانے پر اور ہر ایک انتظام کے کرنے پر اور رنگا رنگ الزمر : ٦٢ مریم ۷۲ الطلاق :۱۳