آئینہ کمالاتِ اسلام

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 776

آئینہ کمالاتِ اسلام — Page 130

روحانی خزائن جلد ۵ ۱۳۰ آئینہ کمالات اسلام تابع ہو جاتا ہے اور ذوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجا لاتا ہے غرض وہ لوگ کچھ تو تکلف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرمانبرداری ان سے صادر ہوتی ہے یعنی ابھی پوری موافقت اللہ جل شانہ کے ارادوں اور خواہشوں سے ان کو حاصل نہیں اور نہ نفس کی جنگ اور مخالفت سے بکلی فراغت بلکہ بعض سلوک کی راہوں میں نفس موافق اور بعض راہوں میں مخالف ہے (۳) تیسری سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ تو ضرور دریافت کر لے گی کہ ان کا کوئی فعل عبث اور بے ہودہ طور پر نہیں ۔ اس اقرار کے بعد اگر چه عقل مفصلاً تساقط شہب کی ان اغراض کو دریافت نہ کر سکے جو ملائک کے ارادہ اور ضمیر میں ہیں لیکن اس قدرا جمالی طور پر تو ضر ور سمجھ جائے گی کہ بے شک اس فعل کیلئے بھی مثل اور افعال ملائکہ کے در پردہ اغراض و مقاصد ہیں پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے اس تفصیل کیلئے کسی اور ذریعہ کے محتاج ہو گی جو حدود عقل سے بڑھ کر ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجر و عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے ۔ اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقدہ کھول دیا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔ یعنی یہ ایک قسم کا انتشار نورانیت ملائک کے ہاتھ سے اور ان کے نور کی آمیزش سے ہے جس کا جنات کی ظلمت پر اثر پڑتا ہے اور جنات کے افعال مخصوصہ اس سے رو کبھی ہو جاتے ہیں اور اگر اس انتشار نورانیت کی کثرت ہو تو بوجہ نور کے مقناطیسی جذب کے مظاہر کاملہ نورانیت کے انسانوں میں سے پیدا ہوتے ہیں ورنہ یہ انتشار نورانیت بوجہ اپنی ملکی خاصیت