ایک غلطی کا اِزالہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 231 of 822

ایک غلطی کا اِزالہ — Page 231

☆ ۲۲۷ دافع البلاء روحانی خزائن جلد ۱۸ اني انا الرحمن دافع الاذى۔ اني لا يخاف لدي المرسلون۔ اني حفيظ۔ اني مع الرسول اقوم۔ والوم من يلوم افطر و اصوم غضبت غضبًا شديدًا۔ الامراض تشاع۔ والنفوس تضاع۔ الا الذين أمنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئک له الا من و هم مهتدون ۔ انا نأتى الارض ننقصها من اطرافها۔ انــي اجهز الجيش فاصبحوا في دارهـم جـاثمين۔ سنريهم ايتنا في الأفاق و في انفسهم نصر من الله و فتح مبین انی با یعتک با یعنی ربّی۔ انت منی بمنزلة اولادی انت منی و انا منک۔ عسی ان یبعثک ربّک مقاما محمودًا ۔ الفوق معك والتحـت مـع اعداءك فاصبر حتى يأتى الله بأمره۔ يأتي على جهنم زمان ليس فيها احد ترجمہ ۔ خدا ایسا نہیں کہ قادیاں کے لوگوں کو عذاب دے حالانکہ تو اُن میں رہتا ہے۔ وہ اس گاؤں کو طاعون کی دست برد اور اس کی تباہی سے بچالے گا۔ اگر تیرا پاس مجھے نہ ہوتا اور تیرا اکرام مد نظر نہ ہوتا تو میں اس گاؤں کو ہلاک کر دیتا۔ میں رحمان ہوں جو دُ کھ کو دور کرنے والا ہے۔ میرے رسولوں کو میرے پاس کچھ خوف اور غم نہیں میں نگہ رکھنے والا ہوں ۔ میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا اور اس کو ملامت کروں گا جو میرے رسول کو ملامت کرتا ہے ۔ میں اپنے وقتوں کو تقسیم کر دوں گا کہ کچھ حصہ برس کا تو یادر ہے کہ خدا تعالی بیٹوں سے پاک ہے نہ اُس کا کوئی شریک ہے اور نہ بیٹا ہے اور نہ کسی کو حق پہنچتا ہے کہ وے کے وہ یہ کہے کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں لیکن یہ فقرہ اس جگہ قبیل مجاز اور استعارہ میں سے ہے۔ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا ہاتھ قرار دیا اور فرمایا يَدُ اللهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ ایساہی بجائے قل یا عباد اللہ کے قُلْ لِعِبَادِی نے بھی کہا اور یہ بھی فرمایا فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ = پس اُس خدا کے کلام کو ہشیاری اور احتیاط سے پڑھو اور از قبیل متشابہات سمجھ کر ایمان لاؤ اور اس کی کیفیت میں دخل نہ دو اور حقیقت حوالہ بخدا کرو اور یقین رکھو کہ خدا اتخاذ ولد سے پاک ہے تا ہم متشابہات کے رنگ میں بہت کچھ اس کے کلام میں پایا جاتا ہے۔ پس اس سے بچو کہ متشابہات کی پیروی کرو اور ہلاک ہو جاؤ۔ اور میری نسبت بینات میں سے یہ الہام ہے جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ قل انما انا بشر مثلكم يُوحى الي انما الهكم اله واحد والخير كله في القرآن ۔ منه سہو کتابت معلوم ہوتا ہے۔ بمطابق براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلدا صفحہ ۳۶۷ ” لھم “ہونا چاہیے۔( ناشر ) ل الفتح : الزمر :۵۴ البقرة : ٢٠١