ایک غلطی کا اِزالہ — Page 206
روحانی خزائن جلد ۱۸ طرف اُلٹ پڑتی پس وہ کون سی پوشیدہ طاقت ہے جس نے ہزاروں کے ہاتھوں کو باندھ دیا اور دماغوں کو پست کر دیا اور علم اور سمجھ کو چھین لیا اور سورہ فاتحہ کی گواہی سے میری سچائی پر مہر لگادی اور اُن کے دلوں کو ایک اور مہر سے نادان اور نافہم کر دیا۔ ہزاروں کے رو برو اُن کے چرک آلودہ کپڑے ظاہر کیے۔ اور مجھے ایسی سفید کپڑوں کی خلعت پہنادی جو برف کی طرح چمکتی تھی۔ اور پھر مجھے ایک عزت کی کرسی پر بٹھا دیا اور سورہ فاتحہ سے ایک عزت کا خطاب مجھے عنایت ہوا۔ وہ کیا ہے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ۔ اور خدا کے فضل اور کرم کو دیکھو کہ تفسیر کے لکھنے میں دونوں فریق کے لئے چارجز کی شرط تھی یعنی یہ کہ مستردن کی میعاد تک چار جز لکھیں لیکن وہ لوگ باوجود ہزاروں ہونے کے ایک جز بھی نہ لکھ سکے اور مجھ سے خدائے کریم نے بجائے چارجز کے ساڑھے باراں جز لکھوا دیے اب میں علماء مخالفین سے پوچھنا چاہتا ہوں کہکیا یہ معجزہ نہیں ہے اور اس کی کیا وجہ ہے کہ معجزہ نہ ہو۔ کوئی انسان حتی المقدور اپنے لئے ذلت قبول نہیں کرتا پھر اگر تفسیر لکھنا مخالف مولویوں کے اختیار میں تھا تو وہ کیوں نہ لکھ سکے کیا یہ الفاظ جو میری طرف سے اشتہارات میں شائع ہوئے تھے کہ جو فریق اب بالمقابل ستر دن میں تفسیر نہیں لکھے گا وہ کا ذب سمجھا جائے گا یہ ایسے الفاظ نہیں ہیں جو انسان غیرت مند کو اس پر آمادہ کرتے ہیں کہ سب کام اپنے پر حرام کر کے بالمقابل اس کام کو پورا کرے تا جھوٹا نہ کہلاوےلیکن کیونکر مقابلہ رج کر سکتے خدا کا فرمودہ کیونکر مل سکتا کہ كَتَبَ اللهُ لَاغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِي لا خدا نے ہمیشہ کے لئے جب تک کہ دنیا کا انتہا ہو یہ حجت اُن پر پوری کرنی تھی کہ باوجود یکہ علم اور لیاقت کے یہ حالت ہے کہ ایک شخص کے مقابل پر ہزاروں ان کے عالم و فاضل کہلانے المجادلة :٢٢