احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 543 of 597

احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 543

آپ مجدد وقت اور مصلح کے منتظر تھے ۱۱ آپ کے بے نظیر اخلاص ووفا کا تذکرہ ۱۰ کسی اتفاق سے میری کتابیں ان تک پہنچیں وہ پاک باطن اور اہل علم و اہل فراست خداترس بزرگ تھے اس لئے میرے دلائل کا ان پر اثرہوا اور انہوں نے مجھے مان لیا ۹ امیر کابل سے حج کی اجازت لی۔امیر نے نہ صرف اجازت دی بلکہ امداد کے طورپر کچھ روپیہ بھی دیا چنانچہ وہ قادیان پہنچے ۱۰ جب مجھ سے ان کی ملاقات ہوئی تو میں نے انکو اپنی پیروی میں فناشد پایااور محبت سے بھراپایا ۱۰ ان کے منہ سے بہت سے کلمات معرفت اوردانائی کے سنے ۱۱ سفر جہلم میں آپ ؑ شریک ہوئے اور کئی نشانات مشاہدہ کیے ۴۵ وفات مسیح کے دلائل اور مسیح موعود کے اس امت سے پیدا ہونے کے بارہ ان کے استدلال زیادہ تر قرآن شریف سے تھے اور انکا دل حق الیقین سے پُر تھا ۳۹ آپ کے بارہ میں حضور ؑ کا کشف اور الہام کہ کابل سے کاٹاگیا اور سیدھاہماری طرف آیا ۵۷ براہین احمدیہ میں آپ کی شہادت کی نسبت پیشگوئی ۶۹ آپ کی شہادت کے بارے حضور کو وحی ہوئی: قتل خیبۃ وزید ھیبۃ ۷۵ح آپ کے بارہ حضرت مسیح موعود کا کشف ۷۵ حضرت مسیح موعود ؑ کا آپ کو تصور کرکے اپنی بیماری کیلئے دعا کرنا اور معجزانہ شفا پاجانا ۷۵ آپ کی شہادت کے واقعہ کا بیان ۴۹ قادیان سے واپس جاکر بریگیڈیر محمد حسین کوتوال کو خط لکھا کہ امیر کابل سے کابل آنے کی اجازت حاصل کرلے ۴۹ امیرکابل نے آپ کے خوست پہنچنے سے پہلے ہی والی خوست کو آپ کی گرفتاری کا حکم دیا چنانچہ ایسا ہی ہوا ۵۱ آپ کی استقامت اور استقلال ۵۱ آپ کا کہنا کہ کابل کی سرزمین اپنی اصلاح کیلئے میرے خون کی محتاج ہے ۵۳ آپ کا کہنا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہوجاؤں گا یہ قول وحی کی بنا پر ہوگا ۵۷ شہادت سے پہلے مولویوں کے ساتھ آپ کا مناظرہ و مباحثہ ۵۴ شہادت سے پہلے آپ کا کابل کے علماء کے ساتھ امیر کے حکم سے مباحثہ ہوا ۱۲۶ جب آپ کو سنگسار کرنے کی دھمکی دی گئی تو آپ نے آل عمران کی آیت ۹پڑھی اور جب سنگسار کیاجانے لگا تو آپ نے سورۃ یوسف کی آیت ۱۰۲ پڑھی ۱۲۷ سچ کے بیان کرنے میں کسی کی پرواہ نہیں کرتے تھے ۵۳ مباحثہ کے بعد آپ پر کفر کا فتویٰ لگایا گیا آپ نے وفات مسیح کابھی اقرار کیا ۵۴ امیر کابل نے مباحثہ کے کاغذات دیکھے بغیر صرف فتویٰ پر ہی حکم جاری کردیا اور شہید کروادیا ۵۵ امیر کابل کی طرف سے آپ کو بار بار توبہ کرنے کا کہا جانا اور آپ کا انکار کرنا ۵۶،۵۸ امیر کے حکم پر آپ کے ناک میں چھید کرکے اس میں رسی ڈالی گئی اورمقتل کی طرف لے جایا گیا ۵۸ مقتل میں کمرتک زمین میں گاڑ دیئے گئے اس وقت بھی امیر کابل نے کہا مسیح موعود کا انکار کرولیکن آپ نے انکارنہ کیا ۵۹ امیر کابل نے قاضی کو حکم دیا کہ پہلاپتھر تم چلاؤ پھر امیر نے چلایا اور پھر ہزاروں پتھر اس شہید پر پڑنے لگے ۵۹ ۱۴جولائی ۱۹۰۳ء کو آپ کی شہادت ہوئی ۵۹ شہادت سے پہلے آپ کے الہامات ۱۲۷ آپ کی شہادت کی رات آسمان سرخ ہوگیا اگلے دن کابل میں ہیضہ پھوٹ پڑا جس میں نصراللہ خان کی بیوی اور بچہ بھی ہلاک ہوا ۱۲۷ شہادت کے دنوں میں سخت ہیضہ کابل میں پھوٹ پڑا ۷۴ آپ کی لاش چالیس دن پتھروں میں رہی چند دوستوں نے جنازہ پڑھ کر قبرستان میں دفن کیا۔انکے جسم سے کستوری کی خوشبو آتی تھی ۱۲۶