احمدی اور غیراحمدی میں کیا فرق ہے؟ — Page 485
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۴۸۱ احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟ کہا کہ آپ نے بڑا ظلم کیا۔ اس پر شیر سنگھ نے کہا۔مولوی جی کو خبر نہیں اس نے میرا سو بکرا کھایا ہے۔ اسی طرح پر انسان کی بدکاریوں کا ایک ذخیرہ ہوتا ہے اور وہ کسی ایک موقعہ پر پکڑا جا کر سزا پاتا ہے ۔ جو شخص سچائی اختیار کرے گا کبھی نہیں ہو سکتا کہ ذلیل ہو اس لیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی حفاظت میں ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی حفاظت جیسا اور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک کے وقت ایک دانہ یا ایک لقمہ سے سیر ہو جاوے گا۔ بالکل نہیں بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھائے تسلی نہ ہوگی ۔ اسی طرح پر جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ ناقص اعمال اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے اور نہ وہ بابرکت ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو پھر میں برکت دوں گا۔ غرض یہ باتیں دنیا دار خود ہی بنا لیتے ہیں کہ جھوٹ اور فریب کے بغیر گزارہ نہیں۔ کوئی کہتا ہے فلاں شخص نے مقدمہ میں سچ بولا تھا اس لیے چار برس کو دھرا گیا۔ میں بقیه حاشیه سمجھا اور نہ اس میں کوئی نج کی بات تھی۔ اس بات کو سنتے ہی خدا تعالیٰ نے اس انگریز کے دل کو میری طرف پھیر دیا اور میرے مقابل پر افسر ڈاکخانجات نے بہت شور مچایا اور لمبی لمبی تقریریں انگریزی میں کیں جن کو میں نہیں سمجھتا تھا مگر اس قدر میں سمجھتا تھا کہ ہر ایک تقریر کے بعد زبان انگریزی میں وہ حاکم نونو کر کے اس کی سب باتوں کو رد کر دیتا تھا۔ انجام کا رجب وہ افسر مدعی اپنی تمام وجوہ پیش کر چکا اور اپنے تمام بخارات نکال چکا تو حاکم نے فیصلہ لکھنے کی طرف توجہ کی اور شاید سطر یا ڈیڑھ سطر لکھ کر مجھ کو کہا کہ اچھا آپ کے لیے رخصت ۔ یہ سن کر میں عدالت کے کمرہ سے باہر ہوا اور اپنے محسن حقیقی کا شکر بجالایا جس نے ایک افسر انگریز کے مقابل پر مجھ کو ہی فتح بخشی اور میں خوب جانتا ہوں کہ اس وقت صدق کی برکت سے خدا تعالیٰ نے اس بلا سے مجھ کو نجات دی۔ میں نے اس سے پہلے یہ خواب بھی دیکھی تھی کہ ایک شخص نے میری ٹوپی اتارنے کے لئے ہاتھ مارا۔ میں نے کہا کیا کرنے لگا ہے؟ تب اُس نے ٹوپی کو میرے سر پر ہی رہنے دیا کہ خیر ہے خیر ہے۔ ( بدر جلد نمبر ۵ صفحه ۳ مورخه ۲ رفروری ۱۹۰۶ء) بدر میں ہے۔ ”انسان گناہ کسی اور موقعہ پر کرتا ہے اور پکڑا کسی اور موقعہ پر جاتا ہے“۔ بدر جلد ۲ نمبر ۶ صفحه ۳ مورخه ۹ فروری ۱۹۰۶ء)