رسالہ درود شریف — Page 25
رساله درود شریف ہیں۔وہ بھی۔الْحَدِيثِ أَسَفًا (كهف) ۳۱ رساله درود (19) بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ (ابراہیم:) (اے رسول) اس کتاب کو ہم نے اس لئے اتارا ہے۔کہ سب لوگوں کو تم ان کے رب کے حکم سے ظلمتوں میں سے نکال کر نور کی طرف یعنی اس غالب اور تمام تعریفوں کے مالک اللہ کی راہ کی طرف لاؤ۔جو آسمانوں اور زمین کی تمام چیزوں کا مالک ہے۔(۲۰) ۷۳) لَعَمْرُكَ إِنَّهُمْ لَفِي سَكْرَتِهِمْ يَعْمَهُونَ (حجر: ٢٣) (اے رسول) تمہاری پاک زندگی کی قسم ہے کہ یہ (لوگ بھی) اپنی (بد) مستی میں پڑے بھٹک رہے ہیں۔(۲۱) عَسَى أَن يَبْعَتَك رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا (اسراء ۸) (اے رسول) قریب ہے کہ تمہارا رب تمہیں مقام محمود پر کھڑا کرے۔(۲۲) إِنَّ فَضْلَهُ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيرًا (اسراء ۸۸) (اے رسول) اس کا تم پر بہت بڑا فضل ہے۔(۲۳) لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ عَلَى أَثَارِهِمْ إِنْ لَّمْ يُؤْمِنُوا بِهَذَا (اے پیغمبر) اگر یہ (لوگ) ایمان نہ لائے۔تو تم شاید ان کے پیچھے اور ان کے غم میں اپنے آپ کو ہلاکت تک پہنچا دو۔(۲۴) وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةٌ لِلْعَلَمِينَ (انبیاء : ۱۰۸) اور (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں تمام اقوام عالم (اور تمام مخلوق) کے لئے سراسر رحمت بنا کر بھیجا ہے۔(۲۵) مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكُوةٍ فِيْهَا مِصْبَاحٌ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ تُبرَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارُ نُورُ عَلَى نُورٍ يَهْدِى اللَّهُ لِنُورِهِ مَنْ يَشَاءُ وَ يَضْرِبُ اللهُ الأمْثَالَ لِلنَّاسِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِهُمْ فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَفِيهَا اسْمة - (نور۳ - ۳۷) اس کے (یعنی اللہ تعالیٰ کے نور کی مثال ایسی ہے۔جیسے ایک طاق ہو۔جس میں ایک روشن چراغ (رکھا) ہو۔وہ چراغ ایک قندیل میں ہو۔اور قندیل ایسی ہو کہ گویا وہ موٹے موتیوں کا سا ایک درخشاں ستارہ ہے۔اس (چراغ) کو ایک مبارک درخت کے تیل) سے روشن رکھا جاتا ہے۔جو زیتون کا درخت ہے۔مگر ایسا کہ نہ مشرق میں اس سا کوئی درخت پایا جاتا ہے۔نہ مغرب میں۔جس کے تیل کو آگ نہ چھوئے۔تو بھی وہ خود بخود ہی روشن ہو جانیوالا ہے۔ایک نور پر دوسرا نور (اترا) ہے۔اللہ جسے چاہتا ہے۔