راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 87 of 198

راہ ھدیٰ — Page 87

AL میں نے اس کے حسن کو ہزاروں یوسفوں سے زیادہ دیکھا ہے پس میں اس کی طرف انتہائی طور پر مائل ہو گیا اور وہ میرے دل میں گھر کر گیا ہے۔اس نے مجھے اس طرح پرورش کیا ہے جیسے رحم میں بچہ کی پرورش کی جاتی ہے اس کا میرے دل پر عجیب اثر ہے اس کے حسن نے مجھے پھسلا لیا ہے۔اور میں نے کشف میں دیکھا ہے کہ ” حظيرة القدس " قرآن کریم کے پانی کے ساتھ سیراب کیا جاتا ہے۔اور وہ یعنی قرآن کریم زندگی کے پانی کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے۔جس نے اس سے پانی پی لیا وہ نہ صرف خود زندہ رہے گا بلکہ وہ آوروں کی زندگی کا بھی موجب ہو گا اور اللہ تعالیٰ کی قسم اس کا چہرہ ہر شے سے زیادہ خوبصورت ہے وہ ایک ایسا چہرہ ہے جسے خوبصورتی کے سانچہ میں ڈالا گیا ہے اور کمال حسن کا جبہ پہنایا گیا ہے اور یقیناً میں اسے خوبصورت اور موزوں قد نوجوانوں کی طرح پاتا ہوں جس کے رخسار دراز اور ملائم ہوں اور اسے مناسب اعضاء سے حصہ وافر عطا ہوا ہو اور اس پر ہر ملاحت اور ہر نور مکمل طور پر پورا ہو چکا ہو وہ ایک پاکیزہ اور خوبصورت نوجوان کی طرح ہے جسے ہر اس پسندیدہ اعتدال اور چنیدہ ملاحت سے پورا پورا حصہ دیا گیا ہے جس کی کسی محبوب کے لئے ضرورت ہے۔جیسے آنکھوں کا سیاہ ہونا۔کشادہ ابرو ہونا۔رخساروں کا بھڑکیلا پن۔کمر کا نازک ہونا۔دانتوں کی آبداری - لبوں میں فاصلہ۔ناک کی بلندی - نیم وا مخمور آنکھیں - پوروں کی نزاکت مزین زلف اور ہر وہ چیز جو دلوں کو موہ لے۔آنکھوں کو سرور بخشے اور کسی حسین میں اچھی معلوم ہو۔قرآن کریم کے علاوہ باقی تمام کتب ناقص روح کی طرح ہیں یا وہ اس لو تھڑے کی مانند ہیں جو نا مکمل ہونے کی صورت میں گر گیا ہو۔اگر آنکھ ہے تو ناک نہیں اور اگر ناک ہے تو آنکھ نہیں۔اور تو دیکھے گا کہ ان کے چہرے مکروہ اور بے رونق ہیں اور ان میں ویرانی پائی جاتی ہے ان کی مثال اس عورت کی سی ہے کہ جس کے چہرہ سے اس کی اوڑھنی اور برقع ہٹایا جائے تو وہ انتہائی بدصورت نظر آئے۔اس کی آنکھیں مگلی ہوئی ہوں اس کے رخسار داغدار ہوں اور اس کے سر کے بال اڑے ہوئے ہوں اس کے دانتوں پر میل جمی ہوئی ہو۔اس کا گلاب کے پھول کا سا چہرہ مرجھایا ہوا ہو اس کے منہ کی نفیس ہوا دھوئیں میں بدل گئی ہو۔اس کے چودھویں رات کے چاند کی روشنی میں کمی آگئی ہو اور وہ پھٹ گیا ہو اس کی شعاع دھوئیں میں بدل گئی