راہ ھدیٰ — Page 45
۴۵ فرمایا : سو میں نے خدا کے فضل سے نہ اپنے کسی ہنر سے اس نعمت سے کامل حصہ پایا ہے جو مجھ سے پہلے نبیوں اور رسولوں اور خدا کے برگزیدوں کو دی گئی تھی۔اور میرے لئے اس نعمت کا پانا ممکن نہ تھا اگر میں اپنے سید و مولی فخر الانبیاء اور خیر الوریٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی راہوں کی پیروی نہ کرتا۔سو میں نے جو کچھ پایا اس پیروی سے پایا اور میں اپنے بچے اور کامل علم سے جانتا ہوں کہ کوئی انسان بجز پیروی اس نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدا تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ معرفت کا ملہ کا حصہ پا سکتا ہے۔" ( حقیقته الوحی روحانی خزائن جلد نمبر ۲۲ صفحه ۶۵٬۶۴) جہاں تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت عطا ہونے کا تعلق ہے وہ معیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے ساتھ ختم تو نہیں ہو گئی۔قرآن کریم تو صاف صاف بتا رہا ہے۔کہ آخری زمانہ میں بھی ایسے لوگ پیدا ہونگے۔جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت حاصل ہو گی۔فرمایا۔" وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، (سورة الجمعه آیت نمبر ۴) ترجمہ :۔اور ان کے سوا ایک دوسری قوم میں بھی وہ اس کو بھیجے گا جو ابھی تک ان سے ملی نہیں۔یعنی کچھ اور لوگ بھی صحابہ میں شامل ہو جائیں گے لیکن ابھی تک وہ صحابہ سے نہیں ملے۔پس قرآن کریم جس معیت اور فیض کا ذکر فرماتا ہے۔اگر یوسف لدھیانوی صاحب اس فیض سے محروم ہیں تو اس میں ان خوش نصیبوں کا تو کوئی قصور نہیں جو اس موعودہ معیت سے فیض یافتہ ہیں۔لدھیانوی صاحب کا یہ کہنا کہ مذکورہ بالا آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی بجائے مرزا صاحب اور ان کے ساتھیوں کی توصیف کا بیان جماعت احمدیہ تسلیم کرتی ہے۔واضح اور سراسر جھوٹ ہے۔حضرت مرزا صاحب، آپ کے خلفاء یا کسی بھی احمدی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ آیت قرآنيه مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ وَالَّذِينَ مَعَد سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ