راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 23 of 198

راہ ھدیٰ — Page 23

۲۳ فصل دوم قادیانی بعثت کے آثار و نتائج لدھیانوی صاحب نے فصل دوم کا مذکورہ بالا عنوان دے کر اس کے نیچے لکھا ہے کہ " محمد رسول اللہ کا دنیا میں دوبارہ آنا ( اور پھر قادیان میں مبعوث ہو کر مرزا غلام احمد کی شکل میں ظاہر ہونا ) اپنے جلو میں اور بھی چند ایک عقائد رکھتا ہے جن کے مرزا صاحب اور ان کی جماعت کے لوگ قائل ہیں ان سے پہلے دنیا کا کوئی مسلمان ان کا قائل تھا نہ اب ہے بلکہ تمام امت مسلمہ ان عقائد کو کفر صریح سمجھتی رہی ہے " (صفحہ ۹) گذشتہ صفحات کے مطالعہ سے روشن ہو گیا ہو گا کہ لدھیانوی صاحب کے ہر دعوی کی بنیاد ہی لغو و فضول اور بے معنی ہے دو محمد کا تصور جماعت احمدیہ میں موجود نہیں اس لئے مولوی صاحب کا دعوئی باطل ہو گیا ہے۔جہاں تک ظلی بروزی بحث کا تعلق ہے نہ صرف دوسرے علماء بلکہ مولانا کے اپنے پیرو مرشد بھی ان اسلامی اصطلاحوں کا بے دریغ استعمال کرتے تھے پس جب بنیاد ہی ملیا میٹ ہو گئی تو ان اعتراضات کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے پس اس خیال سے کہ لدھیانوی صاحب اس وہم میں مبتلا نہ ہو جائیں کہ ذیلی اعتراض اصل اعتراض سے مضبوط تھا ہم ان کے اعتراضات کے شاخسانوں کو ایک ایک کر کے زیر بحث لاتے ہیں۔لدھیانوی صاحب نے اپنے مندرجہ بالا دعویٰ کی تائید میں تین ذیلی عنوان لگائے ہیں جنہیں وہ عقیدہ کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ان کے خیال میں ” تمام امت مسلمہ کے نزدیک کفر صریح ہے " عقیدہ نمبرا " خاتم البنین کے بعد عام گمراہی" لدھیانوی صاحب مذکورہ بالا عنوان درج کر کے لکھتے ہیں ” یہ تو سب جانتے ہیں کہ کسی نبی کے آنے کی ضرورت تب لاحق ہوتی ہے جبکہ پہلی نبوت کی لائی ہوئی ہدایت دنیا سے یکسر غائب L