راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 192 of 198

راہ ھدیٰ — Page 192

میں جھوٹ کو جائز قرار دیا ہے جن سے ہم ہر گز اتفاق نہیں کرتے لیکن اس بات سے انکار نہیں کہ بدی کے ارتکاب کے باوجود وہ اپنی نیت نیک بتاتے ہیں چنانچہ ان کے پیرو مرشد اور انکے فرقہ کے نزدیک چودھویں صدی کے مجدد علامہ رشید احمد گنگوہی صاحب نے یہ فتوی دیا کہ حق کو زندہ کرنے کے لئے جھوٹ بولنا جائز ہے۔لے اگرچہ ان کی اس بات میں ایک اندرونی تضاد اور تناقض ہے اور دوسرے لفظوں میں بات یہ بنتی ہے کہ جھوٹ کا قلع قمع کرنے کے لئے جھوٹ بولنا ضروری ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ حق کے زندہ ہونے کے لئے جھوٹ کا مرنا ضروری ہے اور ایک کا اثبات دوسرے کا عدم چاہتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ سچ کو زندہ کرنے کے لئے جھوٹ کو بھی زندہ کیا جائے۔جھوٹ بولنے کا یہ بہانہ قرآن کریم کی نص صریح کے صریحاً مخالف ہے جس میں خدا تعالٰی فرماتا ہے جَلَدَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِل كَانَ زَهُو فَا (بنی اسرائیل آیت نمبر ۸۲ ) کہ حق کے آتے ہی باطل بھاگ گیا۔حق و باطل اکٹھے رہ ہی نہیں سکتے لیکن قرآن کریم کے سرا سر خلاف ان کے بزرگوں کی یہ عجیب منطق ہے کہ حق مر رہا ہو اور جانکنی کی حالت ہو تو جھوٹ کا دارو پلا کر اسے زندہ کر دیا جائے۔بہر حال وہ جھوٹ کو واجب قرار دیتے ہیں تو حق کو زندہ کرنے کی خاطر۔لیکن ان لدھیانوی مولوی صاحب کا تو عجیب حال ہے کہ جھوٹ حق کو زندہ کرنے کے لئے نہیں بلکہ حق کو مارنے کی خاطر بولتے ہیں۔اور اتنا بولتے ہیں کہ کوئی حساب نہیں رہتا۔ایک بار پھر ہم خدائے واحد دیگانہ اور اس کی جبروت کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہمارے عقا ئے وہی ہیں اور ان کے سوا کچھ نہیں۔جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو عطا کئے اور جن کا خلاصہ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد علیہ السلام نے حسب ذیل الفاظ میں بیان فرمایا کہ " ہمارے مذہب کا خلاصہ اور لب لباب یہ ہے کہ لا الہ الا الله محمد رسول الله جمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں۔جس کے ساتھ ہم بفضل و توفیق باری تعالی اس اس گنگوہی صاحب لکھتے ہیں ! " احیاء حق کے واسطے کذب درست ہے مگر تا امکان تعریض (یعنی اشاروں ناقل) سے کام لیوے اگر ناچار ہو تو کذب صریح بولے (یعنی سو فیصدی جھوٹ بولے۔ناقل ) ورنہ احتراز کرے (فتاوی رشید یه کامل کتاب الحظر والا باخته سوال نمبر ا ا صفحه (۲۴۰)