راہ ھدیٰ

by Other Authors

Page 158 of 198

راہ ھدیٰ — Page 158

۱۵۸ یعنی اللہ تعالٰی کا اپنے ہر رسول نبی اور ولی کے ساتھ ایک بھید اور راز ہوتا ہے کہ دوسرے کسی کو اس پر اطلاع نہیں ہوتی یہاں تک کہ بعض دفعہ مرید کا اللہ تعالیٰ سے ایک بھید ہوتا ہے اور اس کے شیخ کو اس پر آگاہی نہیں ہوتی۔اعتراض نمبر ۱۰ انا اتیناک الدنیا و خزائن رحمة ربک ( تذکره صفحه ۳۷۶) ہم نے تجھے دنیا دے دی اور تیرے رب کی رحمت کے خزانے دے دیئے۔ہم نے کوشش بھی کی لیکن سمجھ نہیں آئی کہ اعتراض کس بات پر ہے اللہ تعالیٰ اپنے ہر بھیجے ہوئے کو غلبہ عطا کرتا ہے جو رفتہ رفتہ بڑھتا چلا جاتا ہے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کو رحمت کے خزانوں پر اعتراض ہے کیونکہ مولوی صاحب تو ایک ایسے مہدی کے منتظر تھے جو رحمت نہیں سونے چاندی اور زر و جواہر کے خزانے لٹانے آئے گا۔پس تعجب نہیں کہ مولوی صاحب کو مرزا صاحب کے اس الہام سے کیا کیا نہ مایوسی ہوئی ہو گی کہ ہم تو زر و جواہر کے خزانوں کی امید لگائے بیٹھے تھے یہ تو آنے والا رحمت کے خزانوں کی باتیں کرتا ہے پس آپ ان رحمت کے خزانوں سے اعراض کر گئے اور پیٹھ دکھا کر دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے ان کے اس سلوک سے قرآن کریم کی یہ آیت یاد آجاتی ہے۔وَإِذَا انْعَمنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِينِ (بنی اسرائیل آیت نمبر ۸۴) کہ جب ہم انسان کی بھلائی کی خاطر نعمت نازل فرماتے ہیں ( یاد رہے کہ نعمت قرآن کی اصطلاح میں ثبوت ہے ) تو وہ اعراض کرتا ہے اور پہلو تہی اختیار کرتا ہے۔اب مولوی صاحب کے اس اعتراض سے یہ بات سمجھ آگئی ہے کہ انسان کیوں ایسا کرتا ہے دراصل یہاں انسان سے مراد ہے جو دنیا کی نعمتوں کا منتظر بیٹھا رہتا ہے اور اس پر مصیبت یہ ٹوٹتی ہے کہ اس پر دنیا کی نعمتوں کی بجائے آسمانی نعمتیں نازل ہونے لگتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات پر جو مولوی صاحب کے دس اعتراض تھے ان کا ہم نے جواب دے دیا ہے فالحمد للہ علی ذلک۔