راہ عمل — Page 72
لي موثر دعوت الی اللہ کے لئے لازمی شرط دعوت میں حسن خلق کو بہت ہی دخل ہے اور جتنی آپ کے دل میں نرمی ہوگی بنی نوع انسان کی ہمدردی ہو گی۔سچائی سے پیار ہو گا تقویٰ ہو گا دل میں خدا کا خوف ہو گا اور اس کے علاوہ حسن خلق بھی ہو گا۔اتنی ہی زیادہ آپ کی دعوت موثر اور نتیجہ خیز ہو گی۔حسن خلق بہت ضروری ہے لیکن صرف حسن طلق کافی نہیں۔یہ غلط فہمیاں دل سے نکال دیں۔کئی احمدی کہتے ہیں کہ ہم اپنے اخلاق سے دعوت دے رہے ہیں اور جو شکایت مجھے معلوم ہوئی ہے اس میں یہ بھی محاورہ شامل کیا گیا تھا کہ فلاں دائی نے علاقے میں اچھا بھلا امن برباد کر دیا۔وہاں آگ لگا دی۔ہم نے اسے متنبہ بھی کر دیا تھا۔اور بتا بھی دیا تھا کہ ہم حسن خلق سے بہت خاموش دعوت کا کام کر رہے ہیں۔اور کسی مزید شور ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔حسن خلق کا انکار تو ممکن ہی نہیں۔یہ ایک بہت ہی بڑا اور موثر ہتھیار ہے جس کے ذریعہ دعوت پھل لاتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں لیکن محض حسن خلق اور زبان سے خاموش یہ تو نہ انبیاء کا دستور ہے اور نہ کوئی معقول آدمی اسے تسلیم کر سکتا ہے کہ اس طرح دعوت پھیل جائے گی۔اگر خدا تعالٰی نے صرف حسن خلق سے کام لیتا ہوتا تو دعوت کے حکم کی ضرورت نہ ہوتی۔پھر یہ بھی سوچیں کہ آپ کے خلق کو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے کیا نسبت 5 چه نسبت خاک را با عالم پاک احمدی اپنے منصب اور مقام کو سمجھیں۔پس جو کمزور ہیں اور بزدل ہیں وہ ایک طرف ہو جائیں جماعت تو لازم آگے بڑھے