راہ عمل — Page 20
۲۱ چالیس گاؤں میں پندرہ دن کے لئے پھیلا دئے جائیں۔تو ایسی زیر دست تحریک پیدا ہو سکتی ہے۔کہ بہت سے لوگوں کے لئے اس کا مقابلہ کرنا مشکل ہو جائے۔دعوت الی اللہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ بات مد نظر ہونی چاہیئے کہ مخالف کو ہدایت دینی ہے۔اگر یہ مد نظر نہ رہے تو گو بحث و مباحثہ میں فتح تو ہو گی۔مگر وہ حقیقی فتح نہیں ہو گی۔مثلا یہ ایک موٹی مثال ہے عیسائی کہتے ہیں۔ہمارے مذہب کی تعلیم ہے۔اگر تمہارے ایک گال پر کوئی تھپڑ مارے۔تو دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دو اب اگر کسی عیسائی سے بحث ہو رہی ہو اور بحث کرنے والا عیسائی مناظر کے منہ پر تھپڑ مار دے اور جب وہ اعتراض کرے۔تو کہے کیا یہی تمہاری تعلیم ہے۔اس وقت اگر لوگ سنجیدگی اور متانت کو چھوڑ کر بحث منے میں مشغول ہوں گے تو کہیں گے۔کیسی عمدہ دلیل ہے۔مگر عیسائی جس سے اس لئے بحث کی جا رہی ہو گی کہ وہ حق قبول کرنے والا ہو جائے وہ حق قبول کرنے والا نہیں ہو گا۔کیونکہ اس کی توجہ اس دلیل کی طرف نہیں ہو گی بلکہ اس تھیڑ کی طرف ہو گی جو اس کو مارا گیا۔اس درد کی طرف ہو گی جو اسے ہو رہا ہو گا۔اس ذلت کی طرف ہو گی جو اسے پہنچائی گئی تو بعض دلیلیں زیادہ زبردست اور موثر ہوتی ہیں۔دوسروں کے لئے۔مگر جن کو ہدایت کی طرف لانا مقصود ہوتا ہے۔ان کے لئے نہیں ہوتیں انکی بجائے معمولی بات ان کے لئے موثر ہو جاتی ہے۔پس دعوت کے لئے نکلتے وقت ہمارے ہر ایک داعی کو یہ بات پہ نظر ہونی چاہیے کہ لوگوں کو ہدایت کی مد طرف لانا ہے نہ کہ بحث کرتی ہے۔اس کے لئے تمہارا چپ رہتا یا نرمی سے بولنا یا کم بولنا اگر مفید ہو سکتا ہے تو وہ ہزار درجہ بہتر ہے یہ نسبت بولنے یا زیادہ بولنے یا زور سے بولنے کے جو صرف لوگوں کے لئے لذت کا باعث ہو اور کسی کو ہدایت کی طرف لانے میں کر نہ ہو۔جب تمہارے اندر یہ چند یہ احساس اور یہ خواہش پیدا ہو جائے گی کہ ہمارا کام جذ دوسروں کو ہدایت دینا اور راہ راست پر لانا ہے تو تمہاری معمولی معمولی باتیں ان کے لئے نہایت موثر اور مفید ثابت ہوں گی۔پس دعوت الی اللہ میں کامیابی کے لئے اپنے دل اور قلب میں یہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کہ لوگ ہدایت پا جائیں۔دیکھو نبی جو کامیاب ہوتے ہیں وہ بحثوں سے