راہ عمل — Page 12
۱۳ ہے لیکن بعض عادتوں کو چھوڑ نہیں سکتا تو یہ نہیں کہ اس کو دھکا دے دیں۔اگر وہ اسلام کی صداقت کا اقرار کرتے ہوئے غلطی کے اعتراف کے ساتھ اس کمزوری کو آہستہ آہستہ چھوڑنا چاہے تو اس سے درشتی نہ کریں۔خدا کی بادشاہت کے دروازوں کو بند نہ کریں۔لیکن عقائد صحیحہ کے اظہار سے کبھی نہ جھجکیں جو حق ہو اسے لوگوں تک پہنچا دیں اور کبھی یہ خیال نہ کریں کہ اگر آپ حق بتائیں گے تو لوگ نہیں مانیں گے اگر لوگ خود نہ مائیں تو نہ مانیں لوگوں کو ایمان دار بنانے کے لئے آپ خود بے ایمان کیوں ہوں۔کیا احمق ہے وہ انسان جو ایک زہر کھانے والے انسان کو بچانے کے لئے خود زہر کھالے سب سے اول انسان کے لئے اپنے نفس کا حق ہے پس اگر لوگ صداقت کو سن کر قبول نہ کریں تو آپ نفس کے دھوکے میں نہ آئیں کہ آؤ میں قرآن کریم کو ان کے مطلب کے مطابق بنا کر سناؤں ایسے مسلمانوں کا اسلام محتاج نہیں۔یہ تو مسیحیت کی فتح ہو گی نہ کہ اسلام کی۔جس نقطہ پر آپ کو اسلام کھڑا کرتا ہے اس سے ایک قدم آگے پیچھے نہ ہوں اور پھر دیکھیں کہ فوج در فوج لوگ آپ کے ساتھ ملیں گے۔وہ شخص جو دوسرے کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے حق چھوڑتا ہے۔دشمن بھی اصل واقع پر اطلاع پانے پر اس سے نفرت کرتا ہے۔کھانے پینے میں اسراف اور تکلف سے کام نہ لیں بے شک خلاف دستور بات دیکھ کر لوگ گھبراتے ہیں لیکن ان کو جب حقیقت معلوم ہو اور وہ سمجھیں کہ یہ سب اتقاء کی وجہ سے نہ کہ غفلت کی وجہ سے ہے تو ان کے دل میں محبت اور عزت پیدا ہو جاتی ہے۔ہمیشہ کلام نرم کریں اور بات ٹھہر ٹھہر کر کریں جلدی سے جواب نہ دیں اور ٹالا نہ کریں۔اخلاص سے سمجھائیں۔اور محبت سے کلام کریں اگر دشمن سختی بھی کرے تو نرمی سے پیش آویں ہر انسان کی خواہ کسی مذہب کا ہو خیر خواہی کریں حتی کہ اسے معلوم ہو کہ اسلام کیا پاک مذہب ہے۔