رَدْ تَنَاسُخْ — Page 24
ا من يجيب المضطر اذا دعاء ويكشف السوء ستائیواں جواب تاریخ کے اعتقاد پر چاہئے کہ گناہ اور اللہ تعالیٰ کی بغاوت ہمیشہ ہوتی رہے۔او بدی دنیا سے کبھی اٹھو۔اول۔اسلئے کہ باری تعالے کو بدی کے قائم رکہنی کیضرورت ہوں دوم اسواسطے کہ نیکوں اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کو بھی بدی کے قائم رہنے کی ضرورت ہے۔باریتعالی کو اسواسطے کہ جب نیک نے نیکی کی احسب الاعتقاد اہل تناسخ کے ضرور ہے۔کہ باری تعالیٰ اس نیک کو نیکی کا بدلیہ دیوے۔بدلہ کیا ہو یہی گھوڑے۔ہاتھی ہیں۔اونٹ۔بکری و بصیرت عورتیں وغیرہ وغیرہ۔اب اگر بد کار بد کاری نہ کریں۔تو نیکو بیچے واسطہ وہ اسباب جن کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔کہا اس سے آوے اس واسطے یا تو بدکاروں کا اپر احسان ہے۔کہ ایسے سامان مہیا کر دیتی ہیں۔یا وہ معاذ اللہ یہ مجبوری ان سے بدی کراتا ہے ، تاکہ اسے بہ نیکوں کے انعام میں مدد ملے۔نیک اسواسطے بدکاری کو چاہیں۔کہ ان کو بدون پای بد کار کے گھوڑے۔ہاتھی پنچھ عورتیں کہاں سے ملیں۔مکانات کی لکڑ نہیں کہاں سے آویں گرمی میں بچارے ہندوستانی کس بڑی برگہ بلاک کے نیچے آرام کریں۔اس واسطے آریہ کے خیال پرلا انتہا زمانہ سے بدکاری دنیا میں موجود ہے۔اور لا انتہار نہ مانہ تک بدی موجود ر ہے ی۔اللہ تعالیٰ کے سواء دوسرا کون ہو۔جو مضطر کے موبار قبولیت عطام سے اور کیا دیہی سنا دکھ کو دور کرے۔