ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 90 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 90

ربط ہے جانِ محمد سے مری جاں کو مدام ہمیں تو قادیان کی دھوپ بھی اچھی لگتی ہے اس دارالامان کے لئے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا انى احافظ كل من فى الدار (تذکرہ صفحہ 379)۔یہاں فرشتوں کا نزول ہوتا۔آسماں سے برکات نازل ہوتیں۔خدیجہ جیسی نعمت اور موعود مبشر اولاد ملی، جاں نثار جماعت بنی، بارش کے قطروں سے زیادہ نعماء جو گئی نہ جاسکیں۔منارة المسيح، بيت الذكر، بيت الدعا، وسعت پذیر مساجد بهشتی ،مقبره، مبارک مقدس مقامات، گلیاں، محلے، اینٹ پتھر ، ڈھاب، بازار، ہوا، فضا ہر ذرہ حسین پیار کے قابل پھر پیار کیوں نہ ہوتا۔سيدة النساء حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا اور خاندان کے اراکین علیوال کی نہر پر سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔جہاں سے شام کے قریب واپسی ہوئی۔بٹالہ یا علیوال کے سر سبز درختوں کا گھنا سایہ دیکھ کر واہ واہ کہتے ہوئے کسی خادمہ کی زبان سے نکلا۔” کیسا پیارا منظر اور ٹھنڈی چھاؤں ہے“۔حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے یہ الفاظ سن کر فرمایا۔”ہمیں تو قادیان کی دھوپ بھی اچھی لگتی ہے (سیرت المہدی جلد دوم تتمه صفحه 377 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قادیان سے محبت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محبت تھی اور کس طرح آپ دیکھا کرتے تھے۔آپ فرماتے ہیں کہ ”جن مقاموں کے ساتھ خدا تعالیٰ کا تعلق ہوتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے متبرک بنا دیئے جاتے ہیں۔قادیان بھی ایک ایسی ہی جگہ ہے۔یہاں خدا تعالیٰ کا ایک برگزیدہ مبعوث ہوا اور اس نے یہاں ہی اپنی ساری عمر گزاری اور اس جگہ سے وہ محبت رکھتا تھا۔چنانچہ اس موقع پر جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور گئے ہیں اور آپ کا وصال ہو گیا ہے ایک دن مجھے آپ نے ایک مکان میں بلا کر فرمایا کہ محمود دیکھو! یہ دھوپ کیسی زرد سی معلوم ہوتی ہے۔چونکہ مجھے ویسی ہی معلوم ہوتی تھی جیسی کہ ہر روز دیکھتا تھا میں نے کہا کہ نہیں اسی طرح کی ہے جس طرح ہر روز ہوا کرتی ہے۔آپ نے فرمایا نہیں یہاں کی دھوپ کچھ زرد اور مدھم سی ہے۔قادیان کی دھوپ بہت صاف اور عمدہ ہوتی ہے۔چونکہ آپ نے قادیان میں ہی دفن ہونا تھا اس لئے آپ نے یہ ایک ایسی بات فرمائی جس سے قادیان سے آپ کی محبت اور الفت کا پتا لگتا تھا۔کیوں کہ جب کہیں سے جدائی ہونے لگتی ہے تو وہاں کی ذرا ذرا سی چیز سے بھی محبت اور الفت کا خیال آتا ہے تو اس جگہ کی چھوٹی سے چھوٹی چیز سے بھی خدا کے مسیح کو وہ الفت تھی جس کا 90