ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام

by Other Authors

Page 69 of 426

ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 69

ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں ہماری جان ہے کہ اسی کھانے میں سب لوگ سیر ہو کر اٹھ گئے اور ابھی ہماری ہنڈیا اسی طرح اہل رہی تھی اور روٹیاں اسی طرح پک رہی تھیں۔“ بخاری کتاب المغازی حالات غزوہء احزاب ) استفاده از سیرة خاتم النبیین جلد دوم از بادی علی چودھری صفحه 576) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ذات بابرکات سے ایسی ہی برکات و فیوض کا سلسلہ جاری ہوا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چند مہمانوں کی دعوت کی اور ان کے واسطے گھر میں کھانا تیار کروایا مگر عین جس وقت کھانے کا وقت آیا اتنے ہی مہمان اور آگئے اور مسجد مبارک مہمانوں سے بھر گئی حضرت صاحب نے اندر کہلا بھیجا کہ اور مہمان آگئے ہیں کھانا زیادہ بھجواؤ۔اس پر بیوی صاحبہ نے حضرت صاحب کو اندر بلوا بھیجا اور کہا کہ کھانا تو تھوڑا ہے صرف ان چند مہمانوں کے لئے پکایا گیا تھا جن کے واسطے آپ نے کہا تھا مگر شاید باقی کھانے کا تو کھینچ تان کر انتظام ہو سکے گا مگر زردہ تو بہت ہی تھوڑا ہے اس کا کیا کیا جاوے۔میرا خیال ہے کہ زردہ بھجواتی ہی نہیں صرف باقی کھانا نکال دیتی ہوں۔حضرت صاحب نے فرمایا نہیں یہ مناسب نہیں تم زردے کا برتن میرے پاس لاؤ چنانچہ حضرت صاحب نے اس برتن پر رومال ڈھانک دیا پھر رومال کے نیچے اپنا ہاتھ گزار کر اپنی انگلیاں زردے میں داخل کردیں اور پھر کہا اب تم سب کے واسطے کھانا نکال دو خدا برکت دے گا چنانچہ میاں عبداللہ صاحب کہتے ہیں کہ زردہ سب کے واسطے آیا سب نے کھایا پھر بھی کچھ بچ گیا۔۔(سيرة المهدى صفحه 133 - 134) حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی والدہ صاحبہ حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہ سے معجزاتی برکت کے بارے میں استفسار فرمایا تو آپ نے بیان فرمایا: ایسے واقعات بارہا ہوئے ہیں کہ تھوڑا کھانا تیار ہوا پھر مہمان زیادہ آگئے مثلاً پچاس کا کھانا تیار ہوا تو سو آگئے لیکن وہی کھانا حضرت صاحب کے دم سے کافی ہو جاتا رہا۔پھر حضرت والدہ صاحبہ نے ایک واقعہ بیان کیا کہ ایک دفعہ کوئی شخص حضرت صاحب کے واسطے ایک مرغ لایا۔میں نے حضرت صاحب کے واسطے اس کا پلاؤ تیار کرایا اور وہ پلاؤ بس اتنا ہی تھا کہ بس حضرت صاحب کے واسطے تیار کروایا تھا مگر اسی دن اتفاق ایسا ہوا کہ نواب صاحب نے اپنے گھر میں دھونی دلوائی تو نواب صاحب کے بیوی بچے ادھر ہمارے گھر آگئے اور حضرت صاحب نے مجھے فرمایا کہ ان کو بھی کھانا کھلاؤ۔میں نے کہا کہ چاول تو بالکل ہی تھوڑے ہیں صرف آپ کے واسطے تیار کروائے 69