ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 197
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام الصادقین اور ستر الخلافۃ اور اتمام الحوبیہ وغیرہ رسائل عربیہ پڑھے ہوں گے اور نیز میرے رسالہ انجام آتھم اور مجسم الہدی کی عربی عبارت کو دیکھا ہو گا وہ اس بات کو بخوبی سمجھ لے گا کہ ان کتابوں میں کس زور شور سے بلاغت فصاحت کے لوازم کو نظم اور نثر میں بجا لایا گیا ہے اور پھر کس زور شور سے تمام مخالف مولویوں سے اس بات کا مطالبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ علم قرآن اور بلاغت سے کچھ حصہ رکھتے ہیں تو ان کتابوں کی نظیر پیش کریں ورنہ میرے اس کاروبار کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کر میری حقیت کا نشان اس کو قرار دیں لیکن افسوس کہ ان مولویوں نے نہ تو انکار کو چھوڑا اور نہ میری کتابوں کی نظیر بنانے پر قادر ہو سکے۔بہر حال ان پر خدا تعالیٰ کی حجت پوری ہو گئی اور وہ اُس الزام کے نیچے آگئے جس کے نیچے تمام وہ منکرین ہیں جنہوں نے خدا کے مامورین سے سر کشی کی۔“ تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 230 - 231) ہر مخالف کو مقابل پہ بلایا ہم نے آپ علیہ السلام کے بیان میں شان اور شوکت پائی جاتی ہے۔فرماتے ہیں: میں عربوں کے دعوئی ادب و فصاحت و بلاغت کو بالکل توڑنا چاہتا ہوں۔یہ لوگ جو اخبار نویس ہیں اور چند سطریں لکھ کر اپنے آپ کو اہل زبان اور ادیب قرار دیتے ہیں وہ اس اعجاز کے مقابلہ میں قلم اٹھا کر دیکھ لیں۔ان کے قلم توڑ دیئے جائیں گے اور اگر ان میں کچھ طاقت ہے اور قوت ہے تو وہ اکیلے اکیلے یا سب کے سب مل کر اس کا مقابلہ کریں۔پھر انہیں معلوم ہو جائے گا اور یہ راز بھی کھل جائے گا جو یہ ناواقف کہا کرتے ہیں کہ عربوں کو ہزار ہا روپے کے نوٹ دے کر کتابیں لکھائی جاتی ہیں۔اب معلوم ہو جائے گا کہ کون عرب ہے جو ایسی فصیح و بلیغ کتاب اور ایسے حقائق و معارف سے پر لکھ سکتا ہے۔جو کتابیں یہ ادب و انشا کا دعویٰ کرنے والے لکھتے ہیں ان کی مثال پتھروں کی سی ہے کہ سخت، نرم، سیاہ، سفید پتھر جمع کر کے رکھے جائیں مگر یہ تو ایک لذیذ اور شیریں چیز ہے جس میں حقائق اور معارف قرآنی کے اجزا ترکیب دیے گئے ہیں۔غرض جو بات روح القدس کی تائید سے لکھی جاوے اور جو الفاظ اس کے القا سے آتے ہیں وہ اپنے ساتھ ایک حلاوت رکھتے ہیں اور اس حلاوت میں ملی ہوئی شوکت اور قوت ہوتی ہے جو دوسروں کو اس پر قادر نہیں ہونے دیتی۔“۔(ملفوظات جلد دوم صفحہ 375 ایڈیشن 1984ء) ”میرے معجزات اور دیگر دلائل نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کے طلب ثبوت کے لئے بعض منتخب علماء ندوہ 197