ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 163
کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ میں ایسے فنا تھے اور خدا بھی آپ سے ایسی محبت کرتا تھا کہ آپ کو اپنے رب کی غیر معمولی تائید و نصرت اور حفاظت پر ناز تھا۔ایک دفعہ جب ایک ہندو نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ بات قانون قدرت کے خلاف بیان کی ہے کہ دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا اور خدا کے حکم سے آگ ان پر ٹھندی ہو گئی تو حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ جنگ اور مخالفت کی آگ مراد ہے۔جب حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ جواب سنا تو آپ نے بڑے جلال کے ساتھ فرمایا: اس تاویل کی ضرورت نہیں۔حضرت ابراہیم کا زمانہ تو گزر چکا۔اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے کہ خدا اس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں۔آج اگر کوئی دشمن ہمیں آگ میں ڈالے گا تو خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہو گی۔“ (سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے، روایت 147) اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود سے حفاظت کا بار بار وعدہ فرمایا: ”خدا نے ہم سے وعدہ فرمایا ہے اور اس پر ہمارا ایمان ہے وہ وعدہ وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ کا ہے۔پس اسے کوئی مخالف آزمالے اور آگ جلا کر ہمیں اس میں ڈال دے آگ ہر گز ہم پر کام نہ کرے گی اور وہ ضرور ہمیں اپنے وعدہ کے مطابق بچالے گا لیکن اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ ہم خود آگ میں کودتے پھریں یہ طریق انبیاء کا نہیں خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: 196) پس ہم خود آگ میں دیدہ دانستہ نہیں پڑتے بلکہ یہ حفاظت کا وعدہ دشمنوں کے مقابلہ پر ہے کہ اگر وہ آگ میں ہمیں جلانا چاہیں تو ہم ہر گز نہیں جلیں گے۔“ 163 ( ملفوظات جلد سوم صفحه 480)