ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 153
ربط ہے جان محمد سے مری جاں کو مدام محبت بٹھا دے تا کہ اس کے ذریعہ سے میری سخت دلی دور ہو کر حضور نماز میں میسر آوے“۔(فتاوی مسیح موعود صفحه 7 مطبوعہ 1935ء) آپ کے ساتھ نماز کی لذت میں شریک خوش نصیب حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب لکھتے ہیں: سید نا حضرت اقدس مسیح موعود کے زمانہ حیات میں جب کہ خدا تعالیٰ کی مقدس وحی کا نزول بارانِ رحمت کی طرح ہو رہا تھا۔اس عہد میں جو بات بار بار میرے تجربے میں آئی یہ تھی کہ دعا اور نماز پڑھنے کی سمجھ اور لذت ان نمازوں کے ذریعہ آئی جو حضور اقدس کی معیت میں پڑھی گئیں۔سبحان اللہ وہ کیا ہی مبارک زمانہ تھا کہ نماز کے وقت نمازیوں کے خشوع و خضوع، رقتِ قلب اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ گڑ گڑانے اور آہ و بکا کا شور مسجد مبارک میں بلند ہوتا تھا لوگ آستانہ الہی پر سر بسجود ہوتے اور مسجد مبارک وجدانی صداؤں سے گونج اُٹھتی“ (حیات قدسی (871) آنحضرت کیا کم نماز میں کبھی اتنا لمبا قیام کرتے کہ پاؤں متورم ہو جاتے۔جنگ بدر اور کئی دیگر مواقع پر رات رات بھر آپؐ نے اس طرح دعائیں کیں کہ صحابہ بیان کرتے ہیں ایسا معلوم ہوتا تھا گویا چکی چل رہی ہو یا ہنڈیا اہل رہی ہو۔یہی حال آپ کے فرزند جلیل حضرت مسیح موعود کا تھا۔حضرت میاں فتح دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ ایک تاریک رات میں نے حضور کو مسجد مبارک میں ماہی بے آب کی طرح تڑپتے دیکھا، رات بھر اضطراب کے عالم میں ٹہلتے رہے۔اگلے روز حضور سے اسکی وجہ دریافت کی تو فرمایا ہمیں تو جس وقت اسلام کی مہم یاد آتی ہے اور جو مصیبتیں اسلام پر آرہی ہیں ان کا خیال آتا ہے تو ہماری طبیعت سخت بے چین ہو جاتی ہے اور اسلام کا درد ہمیں اس طرح بے قرار کر دیتا ہے“۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب بیان کرتے ہیں کہ طاعون کے ایام میں حضور آستانہ الہی پر یوں گریہ و زاری کرتے تھے جیسے کوئی عورت دردِ زہ سے بے قرار ہو۔روز وصال کی نماز روز وصال 26 مئی 1908 ء کی صبح آپ کو فکر تھا تو نماز کا رات بھر طبیعت خراب رہی۔جب ذرا روشنی ہو گئی تو حضور نے پوچھا ” کیا نماز کا وقت ہو گیا ہے“ عرض کیا گیا ”ہاں حضور ہو گیا ہے“ 153