ربط ہے جانِ محمدؐ سے مری جاں کو مدام — Page 107
قسط 19 میں نے یہ تو نہیں کہا تھا سن چھ ہجری کا واقعہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔آپ صلی ال نیلم نے اسے غیبی اشارہ سمجھ کر طواف کعبہ کی نیت فرمائی اور فروری 628ء کو قریباً چودہ سو اصحاب کے ساتھ مدینہ سے مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔قریش مکہ نے مسلمانوں کے مکہ میں داخلے کی شدید مخالفت کی۔رفع شر کے لئے آپ نکال لی ہم نے اصرار نہ فرمایا اور حدیبیہ کے مقام پر ایک معاہدہ طے پایا جس کی ایک شق یہ تھی کہ اس سال مسلمان واپس چلے جائیں۔اگلے سال بیت اللہ کے طواف کی اجازت ہو گی۔مسلمان جو خانہء کعبہ سے بہت محبت کرتے تھے مکہ جانے کے لئے بیقرار تھے اور اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ رسول اللہصلی تعلیم کا فرمانا بہر حال پورا ہوتا ہے بہت دل برداشتہ ہوئے اور بڑے دکھ کے ساتھ واپسی کا سفر شروع کیا۔حضرت عمر کی آنحضرت صلی لی نام سے اس گفتگو سے ان کی خلش کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔حضرت عمر آنحضرت صل الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: ” کیا آپ خدا کے بر حق رسول نہیں؟“ آپ کی تعلیم نے فرمایا: ”ہاں ہاں ضرور ہوں“۔عمر نے کہا: ”کیا ہم حق پر نہیں اور ہمارے دشمن باطل پر نہیں؟" آپ صلی الم نے فرمایا: ”ہاں ہاں ضرور ایسا ہی ہے“۔عمر نے کہا: ”تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملے میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟“ آپ صلی الم نے حضرت عمر کی حالت دیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا: ”دیکھو عمر میں خدا کا رسول ہوں اور خدا کے منشاء کو جانتا ہوں اور اس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میر امدد گار ہے۔“ مگر حضرت عمر کی طبیعت کا تلاطم لحظہ بلحظہ بڑھ رہا تھا کہنے لگے: ” کیا آپ صلی علی رام نے ہم سے نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کا طواف کرینگے ؟“ آپ صلی ایم نے فرمایا: ”ہاں میں نے ضرور کہا تھا۔مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف اس سال ضرور ہو گا؟“ عمر نے کہا: ”نہیں ایسا تو نہیں کہا۔آپ صلی علیم نے فرمایا: ”تو پھر انتظار کرو۔تم ان شاء اللہ ضرور مکہ میں داخل ہوگے اور کعبہ کا طواف کرو گے“۔(ابن ہشام حالات حدیبیہ) گویا آپ صلی ال کلیم نے اعتراف فرمایا کہ خواب میں بیت اللہ کاطواف دیکھا تھا مگر وقت کا اندازہ درست نہ ہو سکا تاہم آپ کا کوئی کام اللہ تعالی کی حکمت اور تائید سے خالی نہیں ہوتا۔اس سفر میں قریش مکہ سے صلح حدیبیہ کا معاہدہ طے پایا جس سے جنگ و جدل کا ماحول بدل کر امن و امان کا راستہ کھلا۔واپسی کے سفر میں 107