اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 22
۴۳ ۴۲ دعاؤں کو بہت قبول کرنے والا ہے۔۶۰- آخری عمر میں حصول اولاد کی دعا ر لا تدري فَرْداً وَ اَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ 0 (الانبيار 4) حضرت زکریا نے آخری عمر میں حصول اولاد کے لیے دعا کا جو خوبصورت انداز اختیار کیا وہ بجائے خود لائق قبول ہے۔اے میرے رب ! مجھے اکیلا نہ چھوڑا اور تو وارث ہونے والوں میں سب سے بہتر ہے۔نیک بیوی اور اولاد کے حصول اوران کیلئے رب إلي وهن العظمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًاء ولم اكن بدعائِكَ رَبِّ شَقِيًّاه وَانّي خِفْتُ الْمَوَالِى من ورائي وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا فَهَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ وليان ترين وَيَرِثُ مِنْ آلِ يَعْقُوبَ وَاجْعَلْهُ رب رَضِيَّاه (مریم: ۳ تا ۵) اچھا نمونہ بننے کی دعا عباد الرحمن کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے قرآن شریف میں ذکر ہے کہ وہ یہ دعائیں کرتے ہیں :۔ربَّنَا هَبْ لَنَا مِن أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا اے میرے رب ! میری تو یہ حالت ہے کہ میری ہڈیاں تمام کمزور ہوگئی ہیں للْمُتَّقِينَ اِما ماه (الفرقان: ۴۵) اور میرا سر بڑھاپے کی وجہ سے بھڑک اُٹھا ہے۔اور میرے ربت ایک کبھی تجھ سے اے ہمارے رب! ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے اور اولاد کی طرف سے دعائیں مانگنے کی وجہ سے نا کام (ونا مراد) نہیں رہا۔اور میں یقیناً اپنے رشتہ داروں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشرو بنا۔سے اپنے (مرنے کے بعد کے سلوک سے ڈرتا ہوں اور میری بیوی بانجھ ہے۔اے۔والدین کے احسانات کو یاد کر کے رحم کی دعا پس تو مجھے اپنے پاس سے ایک دوست یعنی بیٹا عطا فرما جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب سے (جو دین و تقوی ہم کو ورثہ میں ملا ہے ) اس کا بھی وارث ہو اور اے میرے رب ! اس کو اپنا پسندیدہ وجود بنائیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ اور آپ کی اُمت کے لیے والدین کے حق میں یہ دعا سکھائی گئی حضور فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا والدین کا احسان اُتار نہیں سکتا یہاں ۶۹ تنہائی سے نجات اور اول اسے بہتر ارث پیدا ہونیکی کا تک کہ والد کو غلامی سے آزاد کرائے۔(تفسیر قرطبی جلد ۱ ص ۲۲۲) رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيني صغيرات (بنی اسرائیل (۲۵) اے میرے ربت ! ان پر مہربانی فرما کیوں کہ انہوں نے بچپن کی حالت ہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حضرت زکریا علیہ السلام نے جب یہ دعا کی تو ہم نے اسے قبول کیا اور اس کی بیوی کو تندرست کر کے اس سے اولا نبی علیہ السلام عطا کیے۔میری پرورش کی تھی۔(الانبیاء : ۹۱۰۹۰)