اَدْعِیَۃُ القُرآن — Page 15
۲۹ ۰۴۱ ۲۱ - حصول خیر کی عاجزانہ دعا اولاد کیلئے دینی ودنیوی ترقیات کی تھا حضرت عبداللہ بن عباش بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کی حالت حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنی اولاد کی دینی و دنیوی ترقیات کے لئے یہ اس دعا کے وقت فاقہ سے ایسی ہو چکی تھی کہ کھجور کے ٹکڑے کے بھی محتاج تھے۔دُعا بھی کی ہے۔( تفسير الدر المنشور للسیو علی جلد (۱۳۵) پھر خدا نے نہ صرف اُن کے قیام و طعام ۳ مدبنا إني أسكنتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرَ وَى زَرْع کا بندوبست کیا بلکہ غریب الوطنی میں گھر بارا ور شادی کا انتظام بھی کر دیا۔عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ رَبَّنَا لِيُقِيمُوا الصَّلوةَ رب الى ربما أنزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيره (اقصص ۲۵) فَاجْعَلُ افَئِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِي إِلَيْهِمْ وَارْزُقُهُمْ ه اے میرے رب ! اپنی بھلائی میں سے جو کچھ تو مجھ پر نازل کرے میں اُس کا من الموتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُونَ (ابراہیم : ٣٨) اے ہمارے رب ! میں نےاپنی اولاد میں سے بعض کو تیرے معزز گھر کے پاس محتاج ہوں۔حصول رزق اور امن کی دعائیں ایک ایسی وادی میں جس میں کوئی کھیتی نہیں ہوتی لا بسایا ہے۔اسے ہمارے رب ! میں نے ایسا اس لئے کیا ہے تا وہ عمدگی سے نماز ادا کریں پس تو لوگوں کے دل ان حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر بیت اللہ کے وقت شہر مکہ کے پرامن کی طرف جھکا دے اور انہیں مختلف پھلوں سے رزق دیتارہ تا کہ وہ ہمیشہ شہر ہونے، اس کے باشندوں کے رزق ملنے اور اولاد کے شرک و بت پرستی سے تیرا شکر کرتے رہیں۔بچنے کی جو دعائیں کیں وہ سب مقبول ہوئیں۔(تفسیر الدرالمنثور جلد ۴ صلات) ۴۴- رَبِّ اجْعَلْ هَذَا الْبَلَدَ امِنَّا وَاجْنُبْنِي وَبَنِي ۲ - رَبِّ اجْعَلْ هَذَا بَلَدًا مِنَّا وَارْزُقُ أَهْلَهُ مِنَ الثَّمَوتِ مَنْ أمَنَ مِنْهُم بِاللهِ وَالْيَوْمِ الأخر ان تَعْبُدَ الْأَصْنَاءَ (ابراہیم : ۳۶) اے میرے رب ! اس شہر یعنی مکہ کو امن والی جگہ بنا اور مجھے اور میرے بیٹوں (البقره : ۱۲۷) کو اس بات سے دور رکھ کہ ہم معبودان باطلہ کی پرستش کریں۔اے میرے رب ! اس جگہ کو ایک پرامن شہر بنادے اور اس کے ۴۵ - حواریان شیح کی ایک دُعا باشندوں میں سے جو بھی اللہ پر اور آنے والے دن پر ایمان لائیں انہیں ہر قسم کے پھل عطا فرما۔سواریان شیخ کے اصرار پر کہ ہم پر مائدہ آسمانی نازل ہوا اور رزق میں فرانی عطا ہو حضرت مسیح علیہ السلام نے یہ دُعا کی جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ