تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 410
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۱۰ سورة اللهب کے ذکر میں علاوہ دشمن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مسیح موعود کے دشمن کو بھی مرا دلیا ہے اور یہ تفسیر اس الہام کے ذریعہ سے کھلی ہے۔۔۔۔۔۔اس لئے یہ تفسیر سراسر حقانی ہے اور تکلف اور تصنع سے پاک ہے۔۔۔۔۔۔غرض آیت تبت يدا أبي لهب و تب جو قرآن شریف کے آخر سپارہ میں چار آخری سورتوں میں سے پہلی سورت ہے جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے موذی دشمنوں پر دلالت کرتی ہے ایسا ہی بطور اشارۃ النص اسلام کے مسیح موعود کے ایزاد ہندہ دشمنوں پر اس کی دلالت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ تبت يدا انی کهپ جو قرآن شریف کے آخر میں ہے آیت مغضوب علیہم کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۵ تا ۲۱۷) سورۃ تبت کی پہلی آیت یعنی تبت یدا ابی لَهَبٍ و تب اس موذی کی طرف اشارہ کرتی ہے جو مظہر جمال احمدی یعنی احمد مہدی کا مُکفّر اور مکذب اور مہین ہوگا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۴، ۲۱۵) دعاغَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ ہے جس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مسیح موعود کو دیکھ دیں گے اور اس دعا کے مقابل پر قرآن شریف کے اخیر میں سورۃ تبت يدآ أبِي لَهَبٍ ہے۔گرا۔(تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۱۸) ہلاک ہو گئے دونوں ہاتھ ابی لہب کے یعنی بیکار ہو گئے اور وہ بھی ہلاک ہو گیا یعنی ضلالت کے گڑھے میں ( نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۵۳۱) ماضی مضارع کے معنوں پر بھی آجاتی ہے بلکہ ایسے مقامات میں جب کہ آنے والا واقعہ متکلم کی نگاہ میں یقینی الوقوع ہو مضارع کو ماضی کے صیغہ پر لاتے ہیں تا اس امر کا یقینی الوقوع ہونا ظاہر ہو اور قرآن شریف میں اس کی بہت نظیریں ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔۔۔۔تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَ۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۵۹) خدا تعالیٰ نے جابجا قرآن شریف میں عظیم الشان پیشگوئیوں کو ماضی کے لفظ سے بیان کیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تبت يدا أبي لَهَبٍ وتَب۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۱۷۰) ابولہب کے دونوں ہاتھ ہلاک ہو گئے اور وہ آپ بھی ہلاک ہو گیا۔( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۵۸ حاشیه )